شام کے ۵ بج چکے تھے۔ کئی عورتوں نے گھر کی طرف جانے والی چھوٹی کشتیوں کی جانب تیزی سے قدم بڑھانا شروع کر دیا تھا: کچھ کو اپنے بچوں کو کھلانا تھا اور ان کی دیکھ بھال کرنی تھی، جنہیں وہ گھر پر چھوڑ آئی تھیں اور دیگر عورتیں اس لیے جلد بازی میں تھیں کیوں کہ انہیں ڈر تھا کہ ان کے شوہر تشدد پر آمادہ ہو سکتے تھے۔ انیما اور چند دیگر عورتوں نے کلتالی میں ہی رکنے اور اپنے گروپ کی نمائندگی کرنے کا فیصلہ کیا، وہ کسی بھی حال میں محکمہ جنگلات سے جواب حاصل کرنا چاہتی تھیں۔
وہ احاطہ کے چاروں طرف گھومتے ہوئے ایک سبز تالاب کے کنارے پہنچتی ہیں، جہاں ان سے ضبط کی گئی کھجور کے تنے سے بنی کشتیاں پڑی ہوئی ہیں۔ خواتین حیرت زدہ ہیں؛ کشتیوں سے لکڑیوں کے ٹکڑے جھڑ کر پانی میں ملنے لگے ہیں۔ ’’ہماری کشتیوں کو توڑ کر پانی میں پھینک دیا گیا ہے۔ اس دریا میں شاید لاکھوں روپے (تیر رہے) ہوں گے،‘‘ گیتا ساہو نام کی ایک ماہی گیر خاتون نرم لہجہ میں کہتی ہیں۔ تاہم، وہاں اب بھی انتظار کر رہی دیگر عورتوں میں بھی ان کے جیسا غصہ صاف دکھائی دے رہا ہے۔
واحد ذریعہ معاش
انتظار کر رہے مجمع کی بات چیت کا موضوع کشتی بنانے کی لاگت کی طرف مڑ جاتا ہے: کھجور کے تنوں کی قیمت جس سے کشتیاں بنائی جاتی ہیں، انہیں چھیلنے والے مزدوروں کی اجرت، اور رکھ رکھاؤ کے لیے تارکول لگانے پر آنے والا خرچ، ان تمام چیزوں پر کل خرچ تقریباً ۵ ہزار روپے آتا ہے۔ جب بھی ان کی کشتی کو ضبط کیا جاتا ہے، تو انہیں پھر سے ایک نئی کشتی بنانے کے لیے اپنی جیب سے ہر بار اتنا ہی خرچ کرنا پڑتا ہے۔ ’’اتنا پیسہ جمع کرنے میں دو سے تین مہینے لگ سکتے ہیں۔ محکمہ جنگلات کی طرف سے لکڑی کی جن کشتیوں کی اجازت ہے، وہ کافی مہنگی ہیں، جنہیں ہم خرید نہیں سکتے،‘‘ ایک ماہی گیر خاتون، بینا باگ کہتی ہیں۔
وہ کچھ دور آگے چلتی ہیں، جہاں ان کی نظر ضبط شدہ ڈنگھیوں (چھوٹی کشتیوں) پر پڑتی ہے، جو اب بھی مضبوط ہیں اور درختوں کے ایک جھنڈ سے جھانکتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ یہ چھوٹی کشتیاں ماہی گیر خواتین کے لیے معاش کا واحد ذریعہ ہیں، جن کی مدد سے وہ کیکڑے اور مچھلیاں پکڑتی ہیں۔ اب انیما کا غصہ ساتویں آسمان پر پہنچ چکا ہے: ’’ہماری کشتیاں کیوں ضبط کی جاتی ہیں اور ہمیں پیٹ پر کیوں مارا جاتا ہے؟ ہمیں تنخواہ نہیں ملتی ہے۔ یہ کلکتہ شہر نہیں ہے، جہاں لوگ ہر مہینے کچھ نہ کچھ کماتے ہیں اور بینک میں جمع کرتے ہیں۔ کوئی بھی ہمیں پکانے کے لیے سبزیوں بھرا تھیلا نہیں دینے والا ہے۔ یہاں کی زندگی مختلف ہے۔‘‘