ایم مدن کا ماننا ہے کہ شہد اکٹھا کرنے کے لیے ۶۰ فٹ اونچے درختوں پر چڑھنا اور خطرناک طریقے سے وہاں بیٹھنا، مُدوملائی کے گھنے جنگل میں جنگلی ہاتھیوں کے آس پاس کام کرنا، اور ایسے خطرناک جنگل میں رہنا کیا ہوتا ہے، جہاں تقریباً ۶۵ ٹائیگر اپنے شکار کی تلاش میں ہوں۔
ان میں سے کسی نے بھی انہیں خوفزدہ نہیں کیا ہے۔ ہم جب ان سے پوچھتے ہیں کہ انہوں نے قریب سے کتنے باگھوں کو دیکھا ہے، تو وہ ہنسنے لگتے ہیں: ’’میں نے گنتی بند کر دی!‘‘
لیکن یہ ایک الگ قسم کا سنگین خطرہ ہے، جس نے اب انہیں فکرمندی میں ڈال دیا ہے۔ مدن اور بینّے – مُدوملائی ٹائیگر ریزرو کے بفر ژون کے اندر تقریباً ۹۰ کنبوں کی سات بستیوں میں سے ایک – کے دیگر باشندوں کو جلد ہی اپنے آبائی گھروں اور زمین کو چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔
مدن نے ہمیں جنگل میں اپنی رہائش گاہ دکھائی۔ مٹی اور چھپّر سے بنے ان کی فیملی کے گھر کے بغل میں دیوی مریمّا کا ایک مندر ہے، اور درختوں کے جھنڈ سے گھرا ایک قبرستان ہے جہاں ان کے آباء و اجداد کی نسلیں دفن ہیں۔ وہ وادی میں ایک چشمہ اور اپنی فیملی کے سبزیوں کے کھیت کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جسے بھوکے جانوروں سے بچانے کے لیے کانٹے دار جھاڑیوں سے گھیر دیا گیا ہے۔ ’’یہ ہمارا گھر ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔


