’’میں اپنی زندگی میں صرف ایک بار حیرت میں پڑا ہوں،‘‘ منگل سنگھ کے پانی کے ٹربائن کا ذکر کرتے ہوئے، ۶۰ سالہ بھین کشواہا کہتے ہیں۔ اتر پردیش کے للت پور ضلع کے دشرارہ گاؤں میں یہ گرمی کی ایک دوپہر ہے۔ بھین اپنے ۱۵ ایکڑ کے کھیت کے ایک حصے میں گیہوں کے بیج چھینٹ رہے ہیں۔ ’’پہلے یہ ایک بنجر زمین تھی، لیکن تقریباً ۳۰ سال پہلے ٹربائن نے [کچھ وقت کے لیے] آبپاشی کو آسان بنا دیا۔‘‘
یہ بتانے سے پہلے وہ تھوڑا ہچکچاتے ہیں کہ ٹربائن کیسے کام کرتا ہے۔ ’’میں پڑھا لکھا نہیں ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۸۷ میں پہلی بار سجنام ندی کے پاس، اپنی زمین کے قریب، مقامی مزدوروں کے ذریعے بنائے گئے ایک چھوٹے سے چیک ڈیم میں لکڑی کا ایک پہیہ دیکھا۔ ’’پہیہ ایک ’گیئر باکس‘ سے جڑا ہوا تھا، اور پانی جب پہیہ میں داخل ہوتا تو یہ گھومنے لگتا اور پانی [تقریباً ۱-۲ کلومیٹر دور] ہمارے پاس پہنچ جاتا۔ مشین کے ذریعے پانی کے بہاؤ کو شروع کرنے یا روکنے کے لیے مجھے صرف لکڑی کے ’دروازے‘ کو اندر ڈالنا ہوتا تھا۔‘‘
لیکن بھین کو مشینری سے زیادہ جس چیز نے حیرت میں ڈالا، وہ آگے ہونے والی بات چیت تھی: ’’جب میں نے پوچھا کہ اس پر کتنا خرچ آئے گا، تو انھوں نے کہا کہ یہ مفت ہے۔ ٹربائن کو پانی کی سپلائی کے لیے نہ تو ڈیزل کی ضرورت تھی نہ ہی بجلی کی۔ میں چونک گیا۔‘‘














