بجرڈیہہ کی تنگ گلیوں میں پاور لوم (بجلی کرگھوں) کی کرخت آواز کے درمیان وسیم اکرم اپنے کام میں مصروف ہیں۔ وہ ۱۴ سال کی عمر سے اینٹ سیمنٹ سے بنے اس دو منزلہ گھر میں بُنائی کا کام کرتے رہے ہیں جو کئی نسلوں کا گواہ ہے، کیوں کہ ان کے خاندان میں بنارسی ساڑی کی بُنائی کرنے کی روایت رہی ہے۔
ان کے دادا پردادا ہینڈ لوم پر کام کرتے تھے، لیکن ان کی نسل نے زیادہ تر پاور لوم پر ہی بُنائی سیکھی ہے۔ ۳۲ سالہ وسیم کہتے ہیں، ’’سال ۲۰۰۰ تک یہاں پاور لوم آ گئے تھے۔ میں کبھی اسکول نہیں گیا اور کرگھے پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔‘‘
وارانسی کے بجرڈیہہ علاقے میں ۱۰۰۰ سے زیادہ کنبوں کا تعلق (مقامی بُنکروں کے اندازہ کے مطابق) بُنکر برادری سے ہے، جو بُنائی کا کام کرتے ہیں۔ وہ تھوک خریداروں سے آرڈر، قرض، اور رسد حاصل کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ سبھی کو کام ملے۔
لیکن مارچ ۲۰۲۰ میں لگے لاک ڈاؤن کی وجہ سے کرگھے خاموش ہو گئے۔ یہاں کے بُنکروں (بُنکروں، کرگھا مالکوں اور بُنائی کے کاروبار میں لگے دیگر لوگوں کو مقامی طور پر یہی کہا جاتا ہے) کے پاس کوئی کام نہیں تھا۔ ساڑی کے آرڈر ردّ کر دیے گئے تھے اور ورکشاپس بند کر دی گئی تھیں۔ وسیم کہتے ہیں، ’’میری پوری بچت لاک ڈاؤن کے شروعاتی ۲-۴ مہینوں میں ہی استعمال ہو گئی تھی۔ میں نے [ریاستی حکومت کے ذریعے چلائے جا رہے] بُنکر سروس سنٹر جاکر پوچھا کہ کیا ہمارے لیے [اُس مدت کے لیے] کوئی سرکاری اسکیم ہے؛ لیکن کوئی اسکیم نہیں تھی۔‘‘







