ایلّپّن حیران ہیں اور تھوڑا غصے میں بھی ہیں۔
’’ہمارا تعلق سمندری ساحل پر رہنے والی کسی ماہی گیر برادری سے نہیں ہے۔ پھر ہمیں سیمبانند ماراوَر یا گوسانگی کے طور پر کیوں پہچانا جاتا ہے؟‘‘
’’ہم شولگا ہیں،‘‘ تقریباً ۸۲ سال کے بزرگ دعوے کے ساتھ کہتے ہیں۔ ’’سرکار ہم سے ثبوت چاہتی ہے۔ ہم یہیں رہتے آئے ہیں، کیا یہ ثبوت کافی نہیں ہے؟ آدھار انٹے آدھار یلّنڈا ترلی آدھار؟ [ثبوت! ثبوت! ان کی یہی رٹ ہے]۔‘‘
تمل ناڈو کے مدورئی ضلع کے سکّی منگلم گاؤں میں رہنے والے ایلپن کی برادری کے لوگ سڑکوں پر گھوم گھوم کر پیٹھ پر کوڑے مارنے کا تماشہ دکھاتے ہیں، اور مقامی طور پر چاتئی برادری کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ لیکن مردم شماری میں انہیں سیمبانند ماراور کے نام سے درج کیا گیا ہے، اور انتہائی پس ماندہ طبقہ (ایم بی سی) میں رکھا گیا ہے۔
وہ مزید کہتے ہیں، ’’مردم شماری سے وابستہ اہلکار آتے ہیں، ہم سے کچھ سوال کرتے ہیں اور پھر اپنی مرضی سے ہمیں فہرست میں درج کر لیتے ہیں۔‘‘
ایلپن اُن ۱۵ کروڑ ہندوستانیوں (تخمینی) میں سے ایک ہیں جن کی غیر مناسب طریقے سے نشاندہی اور زمرہ بندی کی گئی ہے۔ ان میں سے کئی برادریوں کو برطانوی دور حکومت میں نافذ کرمنل ٹرائبس ایکٹ، ۱۸۷۱ کے تحت ’خاندانی مجرم‘ قرار دے دیا گیا تھا۔ اس قانون کو بعد میں ۱۹۵۲ میں ردّ کر دیا گیا اور ان برادریوں کو ڈی- نوٹیفائیڈ ٹرائبس (ڈی این ٹی) یا خانہ بدوش قبائل کے طور پر درج فہرست کر دیا گیا۔
قومی کمیشن برائے ڈی نوٹیفائیڈ خانہ بدوش اور نیم خانہ بدوش قبائل کے ذریعے ۲۰۱۷ میں جاری ایک سرکاری رپورٹ میں کہا گیا ہے، ’’زیادہ تر معاملوں میں سب سے ادھورے اور سب سے خراب – ان کی سماجی حالت کو اسی زبان میں بیان کیا جا سکتا ہے۔ وہ سماجی مراتب میں سب سے نچلے پائیدان پر ہیں اور آج بھی انھیں بدگمانیوں کا سامنا کر رہے ہیں جو ان کے خلاف نوآبادیاتی حکومت کے دوران شروع ہوئی تھیں۔‘‘

















