جب پیار کیا تو ڈرنا کیا… پیار کیا، کوئی چوری نہیں کی… گھٹ گھٹ کر یوں مرنا کیا…
پچھلے کچھ دنوں سے وِدھی ۱۹۶۰ کے عشرے میں بنی فلم ’مغل اعظم‘ کا یہ گانا بار بار گنگناتی ہیں۔ وہ حال ہی میں وسط ممبئی میں کرایے پر لیے گئے ایک مکان میں رہتی ہیں، اور گانے کے درمیان رک کر کہتی ہیں، ’’ہم نے بھی کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ تو پھر کسی سے ڈر کر کیوں جئیں؟‘‘
ان کا یہ سوال کوئی بیان بازی نہیں ہے، بلکہ لگاتار کی جانے والی عیب جوئی سے جڑا ہوا ہے۔ مار دیے جانے کا خوف انہیں ہمیشہ ستاتا رہتا ہے۔ جب سے انہوں نے اپنی فیملی کے خلاف بغاوت کی ہے اور اپنے اسکول میں پڑھنے والی ہم جماعت، آروشی کے ساتھ محبت کرنے کے بعد فرار ہوئی ہیں، تبھی سے انہیں یہ خوف ستا رہا ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتی ہیں اور شادی کرنا چاہتی ہیں۔ لیکن اپنی اس محبت کو قانونی درجہ دلانے کا راستہ خاصا طویل، تکلیف دہ اور سخت چیلنجوں سے بھرا ہوا ہے۔ انہیں ڈر ہے کہ گھر والے ان کے اس رشتہ کو منظور نہیں کریں گے اور نہ ہی خاتون کی شکل میں آروشی کو ملی اپنی جنسی شناخت سے متعلق جدوجہد کو کبھی سمجھ پائیں گے۔ آروشی خود کو ایک ٹرانس جینڈر آدمی کہتی ہیں، اور اب انہوں نے اپنا نام ’آروش‘ رکھ لیا ہے۔
بڑے شہر میں آنے کے بعد، انہیں لگا تھا کہ اب انہیں اپنے خاندانوں سے آزادی مل چکی ہے۔ وِدھی کی فیملی تھانے ضلع کے ایک گاؤں میں رہتی ہے، جو کہ پڑوسی ضلع پالگھر میں واقع آروش کے گاؤں سے تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ ودھی کی عمر ۲۲ سال ہے اور وہ مہاراشٹر میں دیگر پس ماندہ طبقہ (او بی سی) کے طور پر درج آگری برادری سے تعلق رکھتی ہیں۔ وہیں، ۲۳ سالہ آروش کا تعلق کُنبی برادری سے ہے؛ یہ بھی ایک او بی سی برادری ہے، لیکن وہاں کے گاؤوں میں رائج ذات پات کی سخت درجہ بندی میں اسے سماجی طور پر آگری سے ’کم تر‘ سمجھا جاتا ہے۔
دونوں ایک سال پہلے اپنا گھر چھوڑ کر ممبئی آ گئی تھیں؛ اور اب گاؤں لوٹ کر جانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ آروش گاؤں کی اپنی فیملی کے بارے میں مشکل سے کوئی بات کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں، ’’میں کچّے مکان میں رہتا تھا اور اس کے بارے میں شرمندگی محسوس کرتا تھا۔ اس موضوع پر میں اپنی آئی [ماں] سے ہمیشہ لڑتا تھا۔‘‘












