’’ہر کوئی ہمارے ساتھ برا سلوک کیوں کرتا ہے؟‘‘ شیتل پوچھتی ہیں۔ ’’ہم ٹرانس جینڈر ہیں، تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ ہمارے پاس عزت نہیں ہے؟‘‘
شیتل برسوں سے تلخ تجربات کی بنیاد پر بول رہی ہیں۔ ۲۲ سال کی عمر میں، تقریباً ایک دہائی کا بھید بھاؤ اور ظلم – اسکول میں، کام کی جگہ، سڑکوں پر، تقریباً ہر جگہ۔
یہ اچلکرنجی کے نہرو نگر میں ان کے گھر سے شروع ہوا تھا جب وہ ۱۴ سال کی تھیں – تب ان کا نام اروِند تھا۔ ’’جب میں ۸ویں یا ۹ویں کلاس میں تھی، تو میں کلاس کی لڑکیوں کی طرح ہی کپڑے پہننا چاہتی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے.... میں گھر میں خود کو آئینہ میں دیکھتی رہتی، اور میرے والد چیختے، ’تم اپنے آپ کو ایک بایلا (’ہم جنس پرست‘) کی طرح کیوں دیکھ رہے ہو، باہر جاؤ اور لڑکوں کے ساتھ کھیلو‘۔ جب میں نے کہا کہ میں ساڑی پہننا چاہتی ہوں، لڑکی کی طرح جینا چاہتی ہوں، تو انھوں نے مجھے مارا اور کہا کہ وہ مجھے ذہنی مریضوں کے اسپتال میں بھرتی کر دیں گے۔ وہ جب مارتے تھے، تو میں بہت روتی تھی...‘‘
یہاں تک کہ فیملی شیتل (ان کی درخواست پر نام بدل دیا گیا ہے) کو ایک تانترک کے پاس بھی لے گئی، تاکہ اپنے بیٹے کے ’علاج‘ کے لیے جھاڑ پھونک کرائی جا سکے۔ ’’میری ماں نے کہا کہ کسی نے مجھ پر کالا جادو کر دیا ہے۔ میرے والد [وہ کباڑ کا کام کرتے تھے] نے ایک مرغی کی قربانی دی۔ میرے والدین یہ نہیں سمجھ سکے کہ جسمانی طور پر میں بھلے ہی ایک مرد تھی، لیکن میں عورت بننا چاہتی تھی۔ وہ میری بات نہیں سنتے تھے۔‘‘
۱۶ سال کی عمر میں، شیتل نے گھر چھوڑ دیا اور سڑکوں پر بھیک مانگنا شروع کر دیا – وہ آج بھی یہی کام کرتی ہیں۔ صبح ۱۰ بجے سے شام تک، وہ پیسے مانگنے دکانوں پر جاتی ہیں؛ وہ بھیک مانگنے کے لیے جے سنگھ پور، کولہاپور اور سانگلی جیسے آس پاس کے شہروں میں بھی جاتی ہیں اور ایک دن میں ۱۰۰-۵۰۰ روپے جمع کر لیتی ہیں۔ کبھی کبھی لوگ انھیں ۴-۵ ٹرانس جینڈر دوستوں کے ساتھ شادیوں، نام رکھنے کی تقریب، مذہبی جاگرن اور دیگر پروگراموں میں ناچنے گانے کے لیے مدعو کرتے ہیں، جہاں وہ ۲۰۰۰-۳۰۰۰ روپے فی کس کما لیتی ہیں۔








