مجھے یہ گیت لکھنا پڑا کیوں کہ دنیا اس وقت بہت ہی مشکل دور سے گزر رہی ہے۔ جب ہم میں سے کچھ لوگوں نے لاک ڈاؤن کو نافذ کیا اور خود کو اپنے گھروں میں بند کر لیا، تب ہمیں شاید ہی اس بات کی توقع تھی کہ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں لوگ اپنے دور دراز کے گھروں کی جانب چلنا شروع کر دیں گے۔ اس سے مجھے کافی تکلیف ہوئی اور میں تڑپ اٹھا۔ ہمارے اعلی ترقی یافتہ ملک میں، ایک انتہائی عظیم ملک، جس ملک میں ہم کئی شعبوں میں سب سے آگے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، کروڑوں لوگ لمبی دوری طے کر رہے تھے – بس ایک قیام گاہ کے لیے، اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھر پر رہنے کے لیے۔ اس نے مجھے غمگین کر دیا۔
’گھر پر رہیں‘؟ کتنے لوگوں کے پاس اپنا گھر ہے؟ اتنے کلومیٹر چلنے کے بعد، کچھ لوگوں کی راستے میں ہی موت ہو گئی۔ وہ پیر، وہ بچے، میں نے جب ان تصویروں کو دیکھا، تو میں اس درد، اس تکلیف کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ مجھے نہیں لگتا کہ یہ ہمارے ملک تک ہی محدود ہے؛ پوری دنیا اس بحران کا سامنا کر رہی ہے۔ میں مہاجرین کے دکھ کے بارے میں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے والوں کے بارے میں بولنا چاہتا تھا – جب کہ بہت سے لوگ کورونا وائرس کے بارے میں تو سوچ رہے ہیں، لیکن دیگر انسانوں کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ اسی تکلیف نے مجھے یہ گیت بنانے پر مجبور کیا۔
میں اس من کا مسافر ہوں، جو دنیا کو دیکھنا چاہتا ہے اور اس کے پار جانا چاہتا ہے۔ میرے دل میں دوسرے انسانوں کے لیے بے انتہا محبت ہے، جن کی زندگی کا میں تصور کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ گیت ان دونوں جذبات کا بھی نتیجہ ہے۔



