فوربس ۲۰۲۱ کی فہرست پر اگر یقین کیا جائے تو (اور جب ارب پتیوں اور ان کی دولت کی بات آتی ہے، تو لوگ اکثر فوربس پر ہی یقین کرتے ہیں)، ڈالر والے ہندوستانی ارب پتیوں کی تعداد ۱۲ مہینوں میں ۱۰۲ سے بڑھ کر ۱۴۰ ہو چکی ہے۔ اس کے مطابق، ان کی مشترکہ دولت صرف پچھلے ایک سال میں ’’تقریباً دو گنی ہوکر ۵۹۶ بلین ڈالر ہو چکی ہے‘‘۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ ۱۴۰ افراد، یا آبادی کا صفر اعشاریہ ۰۰۰۰۱۴ فیصد لوگوں کے پاس ہماری مجموعی گھریلو پیداوار (جی ڈی پی)، ۲ اعشاریہ ۶۲ ٹریلین ڈالر کے ۲۲ اعشاریہ ۷ فیصد (یا ایک پانچویں حصہ سے زیادہ) کے برابر دولت ہے، جو لفظ ’مجموعی‘ کا دوسرا مطلب بتاتا ہے، جیسا کہ وہ ہمیشہ کرتے ہیں۔
ہندوستان کے بڑے روزناموں میں سے بیشتر نے فوربس کے اس بیان کو اپنی منظوری دینے کے لہجہ میں شائع کیا ہے جیسا کہ وہ اکثر ایسے موقعوں پر کرتے ہیں – اوریکل آف پیلف جو زیادہ واضح اور ایماندارانہ انداز میں کہتا ہے، اس کا ذکر کرنا چھوڑ دیا ہے۔
فوربس اس ملک کے بارے میں اپنی رپورٹ کے پہلے پیراگراف میں کہتا ہے، ’’کووڈ- ۱۹ کی دوسری لہر پورے ہندوستان میں تیزی سے پھیل رہی ہے اور کل معاملوں کی تعداد ۱۲ ملین سے تجاوز کر چکی ہے۔ لیکن ملک کے اسٹاک مارکیٹ نے وبائی مرض کے خوف کو دور کرتے ہوئے نئی چوٹیاں سر کی ہیں؛ ایک سال پہلے کے مقابلہ میں سینسیکس کے بنچ مارک میں ۷۵ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے سال ہندوستانی ارب پتیوں کی کل تعداد ۱۰۲ تھی، جو اَب بڑھ کر ۱۴۰ ہو گئی ہے؛ ان کی مشترکہ دولت تقریباً دو گنی ہوکر ۵۹۶ بلین ڈالر ہو چکی ہے۔‘‘
جی ہاں، ان ۴۰ پلوٹوکریٹس کی مشترکہ دولت میں ۹۰ اعشاریہ ۴ فیصد کا اضافہ ہوا ہے – ایک سال میں جب جی ڈی پی سکڑ کر ۷ اعشاریہ ۷ فیصد ہو چکی ہے۔ اور ان حصولیابیوں کی خبر اس وقت سامنے آئی جب ہم مہاجر مزدوروں کی دوسری لہر دیکھ رہے ہیں – ایک بار پھر بہت بڑی تعداد میں، جنہیں آسانی سے شمار نہیں کیا جا سکتا – جو شہروں کو چھوڑ کر اپنے گاؤوں جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں نوکریوں کا جو زیاں ہوگا، اس سے جی ڈی پی کا کوئی فائدہ نہیں ہونے والا ہے۔ لیکن اس کی وجہ سے ہمارے ارب پتیوں کا بہت زیادہ نقصان نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں اس پر فوربس کی یقین دہانی حاصل ہے۔
اس کے علاوہ، لگتا ہے کہ ارب پتیوں کی دولت کووڈ- ۱۹ کے الٹے منطق پر کام کرتی ہے۔ ارتکاز جتنا زیادہ ہوگا، سپر اسپریڈر اثر کا امکان اتنا ہی کم ہوگا۔







