میں نے دھمتری ضلع کی ناگری تحصیل میں ایک سڑک کے کنارے، تقریباً ۱۰ لوگوں کے ایک گروپ کو کسی چیز پر جمع ہوتے دیکھا۔ میں رک کر ان کے پاس جاتا ہوں یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔
کچھ نوجوان چھتّے سے شہد ٹپکا کر بیچ رہے ہیں جو ایک مقامی سرکاری اسپتال کی چھت پر مدھومکھیوں کے ایک بڑے چھتّے کا حصہ تھے۔ اسپتال کی انتظامیہ نے ان سے چھتّے کو ہٹانے کے لیے کہا تھا۔
میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ وہ کہاں سے ہیں؟ سائیبل، اپنے گھر سے انتہائی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کولکاتا، مغربی بنگال سے!‘‘ پراپر کولکاتا سے، میں پوچھتا ہوں؟ ’’کیا آپ سندربن کو جانتے ہیں؟‘‘ وہ جواب دیتے ہیں۔ بالکل، میں کہتا ہوں، یہ سوچتے ہوئے کہ کیا وہ سندربن میں اپنے گھر پر بھی شہد جمع کرتے ہیں۔

