بہیرا سے بڑے پیمانے پر لوگ ہجرت کر رہے ہیں، ان میں سے زیادہ تر تعمیراتی جگہوں پر کام کرنے جاتے ہیں۔ اس فیملی کے پاس زمین کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے – ایک ایکڑ سے بھی کم۔ ’’ہم جب دوسروں کے کھیتوں پر کام کرتے ہیں، تو ایک دن میں صرف 100 روپے ہی کما پاتے ہیں،‘‘ نیرا بتاتی ہیں۔ کھیت بٹائی پر دے دیا جاتا ہے اور بٹائی دار زمین کے مالک کو ہر سال 20-10 بورے چاول یا گیہوں دیتا ہے، جو اس بات پر منحصر ہے کہ فصل کتنی اچھی ہو رہی ہے۔ لکھنؤ میں چار سال تک مزدوری کرنے کے بعد ان کے پاس اتنے پیسے آگئے کہ انھوں نے گاؤں میں اینٹ کے تین کمرے بنالیے ہیں۔ آگے، یہ اس گھر میں ایک ٹوائلیٹ بنانا اور اینٹ کی سبھی دیواروں پر پلاسٹر کروانا چاہتی ہیں۔
سنگیتا اور نیرا روزانہ جو ساڑھے سات گھنٹے تک اتنا اہم کام کرتی ہیں، اس کے بدلے ان میں سے ہر ایک کو 350 روپے ملتے ہیں – جتنا کہ مزدوروں کو ملتے ہیں۔ کبھی چھٹی نہیں ہوتی، اور جس دن یہ چھٹی لیتی ہیں، اس دن کے پیسے نہیں ملتے۔ سنگیتا کے والد، سالک رام، اسی جگہ پر راج گیر مستری کا کام کرکے روزانہ 550 روپے کماتے ہیں۔ شیامو کو مزدور اور راج گیر مستری کے بیچ کا پیسہ ملتا ہے اور وہ روزانہ 400 روپے کما لیتے ہیں۔ سب سے چھوٹی بہن آرتی، مکان مالک کے یہاں کھانا پکاتی ہے، جس کے بدلے اسے ماہانہ 600 روپے ملتے ہیں۔ فیملی یہ سب جوڑ کر بتاتی ہے کہ ان پانچوں کی کمائی سے وہ ہر مہینے 10 ہزار روپے بچا لیتے ہیں۔
یہاں عمارتوں کی تعمیر کے زیادہ تر مقامات پر، عورتیں مزدور کے طور پر کام کرتی ہیں، جس میں انھیں اپنی پیٹھوں اور سروں پر ریت اور سیمنٹ کی آمیزش سے بنے گارے کے 50 کلوگرام کے تھیلے اٹھانے پڑتے ہیں۔ سنگیتا کی بڑی بہن سنتوشی کا معاملہ سب سے الگ ہے۔ اس کے تحمل اور آنکھوں کی تیز روشنی کی وجہ سے انصارالدین نے اسے کھرچنے کی ٹریننگ دی۔ ’’وہ تقریباً 70 فیصد مستری تھی۔ لیکن تبھی اس کی شادی ہو گئی،‘‘ وہ بتاتے ہیں۔ سنتوشی اب پُنے میں اپنے شوہر کے ساتھ ایک عام مزدور کی طرح کام کرتی ہے، نہ کہ مستری کے طور پر جو کہ وہ بن سکتی تھی۔
انصارالدین کو سنتوشی کے چلے جانے سے جو نقصان ہوا، اس کی بھرپائی وہ سالک رام کو کھرچنے کی ٹریننگ دے کر کرنا چاہتے تھے۔ ’’اس طرح، جب انھیں مرمت کی جگہ کوئی کام مل جاتا، تو سنگیتا کے ہنر کو اچھی طرح استعمال کیا جا سکتا تھا۔‘‘ ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ 20 سال تک کام کرنے کے دوران انھیں ایسا کوئی نہیں ملا، جس کے اندر سنگیتا جیسی قدرتی صلاحیت ہو۔ لیکن سالک رام نے زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی، اسی لیے سنگیتا کے مستقبل سے سمجھوتہ کرنا پڑا، جس کے بارے میں خود انھیں کچھ نہیں معلوم۔
سنگیتا کی اعلیٰ درجے کی صلاحیت اس کام سے ہونے والی جسمانی تکلیف کو روک نہیں پاتی۔ ’’میری آنکھوں اور کندھوں میں درد ہونے لگتا ہے۔ زیادہ تر دنوں میں، میں بھوت جیسی نظر آتی ہوں،‘‘ وہ پینٹ اور سیمنٹ کی وجہ سے اپنے کپڑوں پر جمی دھول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتی ہیں۔ ان کے دن کی شروعات صبح میں 6 بجے ہوتی ہے اور اس وقت ان کا پہلا کام ہوتا ہے ہینڈ پمپ سے 20-15 بالٹی پانی بھرنا، جو کہ فیملی کے رہنے کی جگہ سے 20 فٹ دور نیچے ہے۔ اس کے بعد وہ کپڑے دھوتی اور نہاتی ہیں، جب کہ آرتی صبح کا ناشتہ اور دوپہر کا کھانا پکاتی ہیں۔ کام کے بعد، وہ دوبارہ 5-4 بالٹی پانی بھرتی ہیں اور رات کا کھانا پکاتی ہیں – نوڈلس، چکن اور مچھلی انھیں بے حد پسند ہے۔ گھر کے مرد باہر جاکر یا تو روزمرہ استعمال کی چیزیں خرید کر لاتے ہیں یا پھر آرام کرتے ہیں۔ شیامو نے ایک بار کیٹرر کے ساتھ کام کیا تھا، اور بعض دفعہ وہ کچھ برتن بھی دھو دیتے ہیں۔ لیکن، وہ بھی ’’زیادہ تر صرف اپنے لیے،‘‘ سنگیتا کہتی ہیں۔ بہنوں نے کبھی اس پر سوال کرنے کے بارے میں نہیں سوچا۔