’’لاک ڈاؤن نے ہمیں تباہ کر دیا،‘‘ عبدالماجد بھٹ کہتے ہیں۔ ’’آخری سیاح میری دکان پر مارچ میں آیا تھا۔‘‘
سرینگر کی ڈل جھیل میں بھٹ کی تین دکانیں ہیں، جن پر وہ چمڑے کے سامان اور مقامی دستکاری سے تیار مال فروخت کرتے ہیں، لیکن جون میں لاک ڈاؤن میں رعایت کے باوجود ان کی دکان پر کوئی خریدار نہیں آیا ہے۔ اور اب اس قسم کے حالات کی مدت ایک سال سے بھی زیادہ ہو چکی ہے، جس کی شروعات ۵ اگست، ۲۰۱۹ کو کشمیر میں دفعہ ۳۷۰ کی منسوخی سے ہوئی تھی۔
ان دونوں کا سیاحت پر تباہ کن اثر ہوا ہے، جب کہ عبدالماجد جیسے بہت سے لوگ سیاحت پر ہی منحصر ہیں۔
’’اُس ۶-۷ مہینے کی تالا بندی کے بعد جب سیاحوں کی آمد کا موسم شروع ہونے ہی والا تھا کہ یہ کورونا لاک ڈاؤن شروع ہو گیا،‘‘ ۶۲ سالہ عبدالماجد بھٹ کہتے ہیں، جو ڈل جھیل کے بٹ پورہ کلاں علاقہ کے رہنے والے، اور ایک محترم بزرگ ہیں۔ وہ ’لیک سائڈ ٹورسٹ ٹریڈرز ایسوسی ایشن‘ کے صدر بھی ہیں، جس کے بقول ان کے، تقریباً ۷۰ رکن ہیں۔
جھیل کی سیاحت پر مبنی اقتصادیات پر انحصار کرنے والے سرینگر کے متعدد لوگ – شکارا چلانے والے، پھیری لگانے والے، دکاندار – بھی اسی قسم کی باتیں کرتے ہیں، جن کے لیے پچھلے ۱۲ مہینے سیاحتی کتابچہ کے لیے ڈل کی خوبصورت تصویر سے زیادہ کچھ نہیں رہے۔ (دیکھیں سرینگر کے شکارے: پانی جتنا ہی گہرا ہے نقصان)
انہی میں سے ایک نہرو پارک کی ۲۷ سالہ حفصہ بھٹ ہیں، جنہوں نے کورونا وائرس لاک ڈاؤن شروع ہونے سے پہلے، گھر سے ہی ایک چھوٹا کاروبار شروع کیا تھا۔ جموں اینڈ کشمیر آنٹے پرینئرشپ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ سے ۲۴ روزہ تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد حفصہ، جو سرینگر میں ایک اسکول ٹیچر بھی ہیں، کو انسٹی ٹیوٹ سے کم سود پر ۴ لاکھ روپے کا ایک لون (قرض) ملا تھا۔ ’’میں نے ملبوسات اور کپڑوں کا اسٹاک خریدا تھا۔ میں نے اس اسٹاک میں سے ابھی ۱۰-۲۰ فیصد ہی فروخت کیے تھے کہ لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا۔ اب مجھے اس کی قسط ادا کرنے میں پریشانی ہو رہی ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔











