ساٹھ سالہ کیول بائی راٹھوڑ ایک بھاری ہینڈ پمپ چلا رہی ہیں۔ پمپ کو چلاتے ہوئے ہر بار غرغراہٹ کی آواز نکلتی ہے، ان کی بانہوں کی نسیں ابھر جاتی ہیں، چہرے کی جھریاں مزید گہری ہو جاتی ہیں۔ اتنی ساری محنت کے باوجود، پانی مشکل سے ہی ان کے برتن میں گرتا ہے۔ گاؤں کی دوسری ڈھیر ساری عورتیں اپنی باری کا انتظار کر رہی ہیں۔ اور اس ہینڈ پمپ میں کسی بھی وقت پانی ختم ہو سکتا ہے۔
ایک گھنٹہ بعد، شام کو تقریباً ۵ بجے، کیول بائی اپنے دو گھڑوں کو بھرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ ان کے شوہر ۶۵ سالہ رامو قریب کے ایک پتھر پر بیٹھے ہوئے ہیں اور بھیڑ کے اندر جھانک رہے ہیں۔ ’’زالا رے (ہوگیا)،‘‘ کیول بائی مراٹھی میں کہتی ہیں، اور رامو کھڑے ہوجاتے ہیں، لیکن آگے نہیں بڑھتے۔ وہ ایک گھڑا اٹھاتی ہیں اور انھیں دینے کے لیے ان کے پاس چل کر آتی ہیں۔ وہ اسے اپنے کندھے پر حفاظت سے رکھتے ہیں، جب کہ کیول بائی دوسرا گھڑا اٹھاتی ہیں۔ اس کے بعد وہ اپنے شوہر کے ہاتھ کی مدد سے اسے اپنے سر پر رکھتی ہیں اور پھر دونوں اپنے گھر کی جانب چلنا شروع کر دیتے ہیں۔ ’’یہ نابینا ہیں،‘‘ وہ بتاتی ہیں، میرے حیران زدہ چہرے کو دیکھ کر۔







