یہ اسٹوری پاری کی ماحولیاتی تبدیلی پر مبنی سیریز کا حصہ ہے، جس نے ماحولیات کی رپورٹنگ کے زمرہ میں سال ۲۰۱۹ کا رامناتھ گوئنکا ایوارڈ جیتا ہے
’’اگر میں یہ کہوں گا، تو لوگ مجھے پاگل کہیں گے،‘‘ ۵۳ سالہ گیانو کھرات، ایک دوپہر کو اپنے اینٹ سے بنے گھر کے کچے فرش پر بیٹھے ہوئے کہتے ہیں۔ ’’لیکن ۳۰-۴۰ سال قبل، بارش کے موسم میں [قریب کے آبی چشمہ سے] مچھلیاں ہمارے کھیتوں میں بھر جاتی تھیں۔ میں انھیں اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیا کرتا تھا۔‘‘
یہ وسط جون ہے اور ہمارے ان کے گھر پہنچنے سے تھوڑی دیر پہلے ہی، ۵۰۰۰ لیٹر پانی کے ساتھ ایک ٹینکر کھرات بستی میں داخل ہوا ہے۔ گیانو بھاؤ، ان کی بیوی پھُلا بائی اور ان کے ۱۲ ممبران پر مشتمل مشترکہ خاندان کے دیگر سبھی لوگ گھر میں موجود برتنوں، مٹی کے گھڑوں، ڈبوں اور ڈرموں میں پانی بھرنے میں مصروف ہیں۔ پانی کا یہ ٹینکر ایک ہفتہ بعد آیا ہے، یہاں پانی کی زبردست قلت ہے۔
’’آپ کو یقین نہیں ہوگا، ۵۰-۶۰ سال قبل یہاں اتنی بارش ہوتی تھی کہ لوگوں کے لیے اپنی آنکھیں تک کھلی رکھنا مشکل ہو جاتا تھا،‘‘ گوڈواڈی گاؤں میں ۷۵ سالہ گنگوبائی گولیگ، اپنے گھر کے پاس نیم کے ایک درخت کے سایہ میں بیٹھی ہمیں بتاتی ہیں۔ تقریباً ۳۲۰۰ کی آبادی والا ان کا گاؤں، گوڈواڈی، سانگولے تعلقہ کی کھرات بستی سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور ہے۔ ’’یہاں آتے وقت آپ نے راستے میں ببول کے درختوں کو دیکھا؟ اُس پوری زمین پر شاندار قسم کی مٹکی [موٹھ کی دال] پیدا ہوتی تھی۔ مُروم [بیسالٹی چٹان] بارش کے پانی کو بچائے رکھتے تھے اور پانی کی لہریں ہمارے کھیتوں سے نکلتی تھیں۔ ایک ایکڑ میں باجرے کی صرف پانچ قطاروں سے ۴-۵ بوری اناج [۲-۳ کوئنٹل] مل جایا کرتے تھے۔ مٹی اتنی اچھی تھی۔‘‘
اور ہوسابائی الدر، جو ۸۰ کی دہائی میں ہیں، گوڈواڈی سے کچھ ہی دوری پر واقع الدر بستی میں، اپنے خاندان کے کھیت پر موجود دو کنوؤں کو یاد کرتی ہیں۔ ’’بارش کے موسم میں دونوں کنویں [تقریباً ۶۰ سال قبل] پانی سے لبالب بھرے ہوتے تھے۔ ہر ایک میں دو موٹے [بیلوں کے ذریعے کھینچی جانے والی پانی کی چرخی کا ایک نظام] ہوتے تھے اور چاروں ایک ساتھ چلا کرتے تھے۔ دن ہو یا رات، میرے سسر پانی نکالتے اور ضرورت مندوں کو دیا کرتے تھے۔ اب تو کوئی گھڑا بھرنے کے لیے بھی نہیں کہہ سکتا ہے۔ سب کچھ الٹا ہو چکا ہے۔‘‘













