ہر دن صبح ۱۰ بجے مشرقی سورت کے مینا نگر علاقے میں رینوکا پردھان کا ایک کمرے کا گھر ان کے کام کی جگہ میں بدل جاتا ہے۔ ان کے گھر پر پہنچائی گئی رنگین ساڑیوں کی گٹھریاں باورچی خانہ کے سِنک اور دروازے کے پاس اور کھٹیا کے نیچے بھی رکھ دی جاتی ہیں۔ پردھان جلدی سے گٹھریاں کھول کر گلابی-نیلے رنگ کی پالیسٹر کی ایک چمکیلی ساڑی نکالتی ہیں، جسے وہ اپنے گھر کے باہر لگے پانی کے نل کے اوپر لٹکا دیتی ہیں۔
پڑوس کی وید روڈ پر واقع ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ اکائیوں سے یہ ساڑیاں یہاں لائی گئی ہیں۔ مشینی کشیدہ کاری کے عمل کے دوران پالیسٹر کے کپڑے کے آخر میں کھلے دھاگے چھوٹ جاتے ہیں۔ ٹیکسٹائل مینوفیکچرنگ اکائیوں کے استری اور تہہ لگانے والے شعبوں میں واپس بھیجنے سے پہلے ان کپڑوں سے یہ کھلے دھاگے پوری احتیاط سے نکالنے پڑتے ہیں۔ پردھان جیسے گھر سے کام کرنے والے کاریگروں کی یہیں ضرورت پڑتی ہے۔ پردھان اپنے انگوٹھے اور چھوٹی انگلی کا استعمال کرتے ہوئے ایک دن میں ۷۵ سے زیادہ ساڑیوں سے کھلے دھاگے نکالتی ہیں۔ اگر ساڑی تھوڑی مہنگی پالیسٹر ریشم کی بنی ہوتی ہے، تو وہ دھاگے کاٹنے کے لیے چاقو کا استعمال کرتی ہیں۔ ’’میں ہر ساڑی پر پانچ سے سات منٹ لگاتی ہوں،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔ ’’اگر میں تھوڑا زیادہ دھاگے کھینچ لوں اور کپڑا خراب ہو جائے، تو مجھے ٹھیکہ دار کو ساڑی کی پوری قیمت دینی پڑے گی۔ مجھے بہت محتاط رہنا پڑتا ہے۔‘‘
دو روپے فی ساڑی کے حساب سے، پردھان روزانہ ۱۵۰ روپے تک کما لیتی ہیں۔ ایک غلطی کی قیمت ان کی پانچ دنوں کی مزدوری ہو سکتی ہے۔ ’’[آٹھ گھنٹے کے] دن کے اختتام پر میں مشکل سے اپنی انگلیوں میں سنسناہٹ محسوس کر پاتی ہوں،‘‘ وہ کہتی ہیں۔










