۱۰ ستمبر کو بستر کے ضلع ہیڈکوارٹر جگدل پور سے چند سو کسان، جن میں زیادہ تر گونڈ برادری کے آدیواسی تھے، پیدل اور ٹریکٹر کے ذریعے ۲۸۰ کلومیٹر دور چھتیس گڑھ کی راجدھانی رائے پور کی جانب بڑھنے لگے۔ جب وہ کوڈے بود گاؤں کے پاس سڑک کنارے آرام کر رہے تھے، تو میری ان سے ملاقات ہوئی۔ گتّے پر بنے پوسٹر و بینر زمین پر پڑے ہوئے تھے اور چھوٹے تھیلے اور دیگر سامان ان کے آس پاس رکھے ہوئے تھے۔ ان میں سے زیادہ تر ہندی نہیں، بلکہ ہَلبی یا گونڈی زبان میں بات کر رہے تھے۔
بستر ضلع کے سونو رام کشیپ نے بتایا، ’’ہم نے ۱۰ ستمبر کو جگدل پور کے دنتیشوری مندر سے پیدل چلنا شروع کیا تھا اور ہم ۱۸ ستمبر کو رائے پور پہنچیں گے۔ ہم وزیر اعلیٰ رمن سنگھ سے اپنے قرض معاف کروانے اور [ہم اپنے] دوسرے مطالبات کے لیے اپیل کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’ہم چھوٹے کسان ہیں اور ہمارے کھیت بارش پر منحصر ہیں۔ اگر بارش نہیں ہوگی، تو کھیتی بھی نہیں ہوگی۔ ہم نے ۲-۳ ایکڑ زمین کے بدلے قرض لیا ہے۔ میرے والد نے ضلع کوآپریٹو بینک سے ۶۰ ہزار روپے قرض لیے تھے۔ انھوں نے اس کا کچھ حصہ واپس کر دیا تھا، لیکن ۲۰۱۴ میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مگر اب بینک کہہ رہا ہے کہ ہمارے اوپر ۲ لاکھ روپے کا قرض ہے۔ اسی وجہ سے میں رائے پور جانے والے اس مارچ میں شامل ہوا۔‘‘




