اپنے باورچی خانہ کے درمیانی حصہ میں بنے مٹی کے ایک موٹے چبوترہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مونجیت رائیسونگ کہتے ہیں، ’’یہاں ہمارے اسلاف کی روحیں قیام کرتی ہیں۔‘‘ ان کے باورچی خانہ کی چھت، دیواریں اور فرش سبھی بانس کی لکڑی سے بنے ہیں۔
خاکستری رنگ کا یہ چبوترہ ایک فٹ لمبا ہے، اور اس کے اوپر جلانے والی لکڑی رکھی ہوئی ہے؛ اس کے نیچے کھانا پکایا جاتا ہے۔ مونجیت مزید بتاتے ہیں، ’’اسے ’ماروم‘ کہتے ہیں اور یہ ہمارے لیے مقدس ہے۔ میسنگ برادری کے لیے یہ بہت معنی رکھتا ہے۔‘‘
آج رات کی دعوت کی میزبانی مونجیت اور ان کی بیوی نین مونی رائیسونگ مل کر کر رہے ہیں۔ دعوت میں میسنگ برادری کے روایتی پکوان والی خاص تھالی شامل ہے۔ میاں بیوی کا تعلق میسنگ برادری سے ہے (جو آسام میں درج فہرست قبائل میں شامل ہے)۔ وہ آسام کے ماجولی جزیرہ کے ایک شہر گرمور میں واقع اپنے گھر سے رائیسونگ کا باورچی خانہ چلاتے ہیں۔
ماجولی، برہم پتر ندی کے کنارے آباد ہے اور آس پاس کے تقریباً ۳۵۲ مربع کلومیٹر میں پھیلا ہندوستان کا سب سے بڑا ندی پر بنا جزیرہ ہے۔ جزیرہ پر دور دور تک سبز دھان کے کھیت، چھوٹی چھوٹی جھیلیں، جنگلی بانس اور دلدلی نباتات موجود ہیں۔ گھروں کو بھاری بارش اور سیلاب کا سامنا کر پانے کے لیے بانس کے لٹھوں پر اونچا کرکے بنایا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ سارس، کنگ فشر اور بینگنی مورہین جیسے مہاجر پرندوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں ہے کہ قدرتی خوبصورتی سے مالامال اس ضلع میں ہر سال دنیا بھر کے سیاح بڑی تعداد میں آتے ہیں۔
















