اپنی کمیونٹی کے بحران سے پوری طرح واقف، دیپالی بتاتی ہے کہ اس کے پڑوس میں آئندہ بننے والے اپارٹمنٹ کامپلیکس اور مال کیسے اس کالونی کو الگ تھلگ کر دیں گے۔ پاس ہی بڑے لوگوں کے لیے اپارٹمنٹ بنائے جائیں گے اور انہیں بیچا جائے گا۔ ’’ایسا لگتا ہے کہ وہ ہمیں کنارے لگانا اور چھپانا چاہتے ہیں۔ غلاظت اور غریبی دکھائی نہیں دینی چاہیے،‘‘ وہ تلخی سے کہتی ہے۔
اسے اپنے دادا پورن بھٹ کی حصولیابی اور شہرت پر ناز ہے۔ دیپالی کا خود اپنا ایک خواب ہے، وہ فیشن ڈیزائنر بننا چاہتی ہے۔ لیکن وہ ابھی غیر یقینی کا شکا ہے۔ ’’شادی کرنے کے لیے بولیں گے،‘‘ وہ اداس لہجہ میں بولتی ہے۔ اس کی تمام سہیلیوں کی شادی ہو چکی ہے۔ وہ مزید اعتماد سے کہتی ہے: ’’اس گھر میں ہمیں کافی آزادی ملی ہوئی ہے۔ مجھے پڑھنے اور کام کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔‘‘
اس کے بعد، وہ خوشی سے اپنے ماں کے گاؤں کی شادی کے بارے میں بتاتی ہے، جہاں وہ اکثر جایا کرتی ہے۔ ’’گاؤں کی شادی دیکھنے لائق ہوتی ہے۔ آپ کو ضرور دیکھنا چاہیے کہ لوگ کیسا کپڑا پہنتے اور ڈانس کرتے ہیں،‘‘ وہ کہتی ہے۔ پلک جھپکتے ہی وہ کہتی ہے، ’’آپ کو بھی وہاں آنا چاہیے!‘‘ شک اور بہانے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، دیپالی پورے اعتماد کے ساتھ اپنے وعدہ پر قائم ہے۔
کٹھ پتلی کالونی اپنے یہاں کے عظیم فن کاروں کے لیے مشہور ہے، جو درزی گیری، بڑھئی گیری، برتن بنانے، اور دیگر شعبوں سے وابستہ متعدد برادریوں کے مقابلے کافی مضبوط ہیں اور ان کا کام ہر جگہ نظر آتا ہے۔ اس جھگی میں جادو، ڈانس اور آرٹ، ہر فن موجود ہے، پرفارمنگ آرٹس کو یہاں زیادہ اہمیت اس لیے دی جاتی ہے، کیوں کہ اسی سے ان کی روزی روٹی چلتی ہے۔
جادو، محمد ماجد کا فن اور ذریعہ معاش ہے۔ ماجد ایک کمرہ والے گھر میں پریکٹس کرتے ہیں، جو خطرناک طریقے سے ایک اونچی جگہ پر بنا ہوا ہے، جہاں ایک پتلی اور کمزور سیڑھی سے پہنچا جا سکتا ہے۔ لوگوں کو اپنے جادو سے مسحور کرنے کے لیے ان کے پاس بہت سے سامان ہیں، جیسے کتابیں، رسیاں، بالٹیاں، مگ وغیرہ۔ ماجد، راجستھان کے اَلور ضلع کے رہنے والے ہیں اور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ انھوں نے کٹھ پتلی کالونی میں ہی گزارا ہے۔ وہ اپنے فن کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ’’اَلور کے جادوگر شروع میں بنجارہ ہوا کرتے تھے، جو کام کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے رہتے تھے۔ ہمارا کاروبار گاؤوں میں خوب چلا، لیکن وہاں معاش کا بہت محدود امکان تھا۔ یہاں، شہر میں، زیادہ پیسہ دستیاب ہے۔ ہم ہوٹلوں میں، برتھ ڈے پارٹیوں میں، اور دیگر موقعوں پر اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہیں۔‘‘
پڑوس کا رہنے والا ۱۹ سالہ راجیش بھٹ، جو ’آرٹسٹ مینجمنٹ‘ بزنس میں لگا ہوا ہے، بتاتا ہے کہ ماجد ۳۰ منٹ کے اپنے فن کے مظاہرہ سے ۳ ہزار روپے کما لیتا ہے۔
راجیش اگر ۱۹ سال کی عمر میں ایک ابھرتا ہوا آرٹسٹ منیجر ہے، تو اس سے عمر میں دو سال چھوٹی مُنّی بھی کم نہیں ہے، جو کسی بھی میوزک پر سُر لگا سکتی ہے۔ وہ بغیر کسی کوشش کے چھوٹے بچوں کے ایک گروپ میں شامل ہو جاتی ہے، جو راجستھانی مقامی گانے کی دھن پر گا رہے ہیں۔ گانے میں ان کا ساتھ ایک ہارمونیم اور طبلہ اور ایک الیکٹرک گیٹار دے رہے ہیں۔ گانے کافی جانے پہچانے ہیں: ’پدھارو مھارے دیس‘ اور ’آرا را را را‘۔ راجیش کو نہیں معلوم کہ یہ دھُن کتنی پرانی ہے: ’’یہ گانے تب بھی موجود تھے، جب ہمارے دادا نانا نوجوان ہوا کرتے تھے، شاید اس سے بھی پرانے۔ ان کی ابتدا شاید گاؤوں میں ہوئی تھی۔‘‘
حالانکہ زیادہ تر کنبے کتھ پٹلی کالونی میں تین دہائی پہلے آئے تھے، اور موجودہ نسل کے زیادہ تر بچے اسی شہر میں پیدا ہوئے ہیں، لیکن ان کی روزانہ کی پریکٹس میں گاؤں اور شہر دونوں کا امتزاج ملتا ہے، چاہے وہ کھانا بنانے کا طریقہ ہو، سماجی روابط ہوں، شادی بیاہ کی رسومات، فن کی شکلیں یا پھر ان کے لباس اور جوڑے، سب بنیادی طور سے گاؤں کے ہی ہیں، لیکن شہر میں آکر ان میں بہتری آئی ہے اور انھوں نے یہاں کی شکل اختیار کر لی ہے۔
کٹھ پتلی کالونی میں رہنے والی برادریاں فی الحال جس تجربے سے گزر رہی ہیں، وہ دہلی حکومت کی اس کوشش کا نتیجہ ہے، جس کے تحت وہ شہرکاری کے کام میں لگی ہوئی ہے، اور اس کالونی کے باشندے اس نئی تبدیلی کو اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
(مترجم: ڈاکٹر محمد قمر تبریز)