آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس)، جس نے حال ہی میں مارچ کا انعقاد کیا تھا جس میں یہ دونوں بھی شامل ہوئے تھے، نے ۱۳ فروری کو احمد نگر میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس والے کسانوں کی ایک میٹنگ بلائی تھی یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ اس مسئلہ کو بھی مارچ کے ذریعے اجاگر کیا جانا چاہیے۔
سپیکے اور بھاگوت میں سے ہر ایک کے اوپر ۲۰ لاکھ سے ۳۰ لاکھ روپے تک کا بینک لون ہے، جسے انھوں نے ابھی تک لوٹایا نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کے جیسے دوسرے لوگ بھی ہیں جنہوں نے اس سے بھی زیادہ قرض لے رکھا ہے، جسے چکانے میں وہ نا اہل ہیں۔ کسان سبھا نے ریاستی حکومت کے سامنے اپنے جو مطالبات رکھے ہیں، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قرض معافی اسکیم کی توسیع کرکے اس میں سایہ دار جالیوں اور پالی ہاؤس والے کسانوں کو بھی شامل کیا جائے۔
حکومت نے ۲۱ فروری کی رات کو جو یقین دہانی کرائی تھی، اس میں کہا ہے کہ وہ اس مسئلہ کو بھی حل کرنے کی کوشش کرے گی۔ ’’ہمیں ان کے بوجھ کو کم کرنے کا کوئی فیصلہ لینے سے پہلے ایسے کسانوں کا سروے کرانا ہوگا،‘‘ مہاراشٹر کے وزیر برائے آبی وسائل، گریش مہاجن نے کہا۔ انھوں نے کسان سبھا کے لیڈروں کے ساتھ دیر شام کو ہونے والی بات چیت کی قیادت کی اور کسانوں کو مخاطب کیا تھا، جس کے بعد مارچ کو ختم کر دیا گیا۔
’’موجودہ شکل میں قرض معافی کی اسکیم کا کوئی فائدہ نہیں ہے،‘‘ داداد صاحب نے کہا۔ ’’ہمارا قرض بہت بڑا ہے۔ چُکانے کے لیے اگر ہمارے پاس پیسے ہوتے، تو ہم اپنے مطالبات کو لے کر ریلی نہیں نکال رہے ہوتے۔‘‘ وہ اپنی زمینیں بیچ دیں تب بھی اپنا قرض نہیں چکا پائیں گے، انھوں نے کہا۔ ’’ہم نے بولنے کا فیصلہ کیا تاکہ دوسرے لوگ ہم سے جڑ سکیں۔ جب ہمارے پاس سرکار کا دروازہ کھٹکھٹانے کا راستہ موجود ہے، تو خود کو پھانسی لگانے کا کوئی مطلب نہیں ہے۔‘‘