’’سب ماچھ شیش [سبھی مچھلیاں ختم ہو گئی ہیں]،‘‘ مرلی نے ٹوٹی پھوٹی بنگالی میں، افسردہ لیکن مسکراتے ہوئے کہا۔ ’’شوب کیچھو ڈیفرنٹ [سب کچھ بدل گیا ہے]،‘‘ انھوں نے آگے کہا، جب دو سال پہلے ہم جالدھا گاؤں کے پاس رام نگر مچھلی بازار میں ملے تھے۔ مرلی نے دیکھا ہے کہ خلیجِ بنگال میں مچھلیاں غائب ہو رہی ہیں۔
وہ سمندر کے بیچ میں ایک ’کالوژون‘ کی بات کرتے ہیں۔ سال ۲۰۱۷ میں، سائنس دانوں نے تقریباً ۶۰ ہزار مربع کلومیٹر کے ایک ’مردہ علاقہ‘ یا ژون کی اطلاع دی تھی جو اس سمندر میں بڑھ رہا ہے۔ اس میں آکسیجن کی مقدار صفر ہے، نائٹروجن گھٹ رہی ہے اور کوئی بحری زندگی نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یہ قدرتی عمل کاریوں کے ساتھ ساتھ انسانی دخل اندازی کا نتیجہ ہے۔
مرلی (ان کا آخری نام دستیاب نہیں ہے)، جو کہ بیستھا ماہی گیر برادری سے ہیں، کی پرورش و پرداخت آندھرا پردیش کے نیلور ضلع کے گووُندلاپالیم گاؤں (مردم شماری میں گُنڈالاپالیم) میں ہوئی۔ وہ دو دہائیوں سے، اکتوبر-مارچ کے مچھلی پکڑنے کے موسم میں خلیجِ بنگال کے ساحل پر پوربا میدنی پور ضلع کے رام نگر بلاک کے جالدھا گاؤں جاتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ان برسوں میں کچھ بنگالی سیکھ لی ہے، اور اسے ہندی اور انگریزی کے ساتھ ملا کر بولتے ہیں۔
مرلی ہندوستانی، بنگلہ دیشی اور سری لنکائی ساحلوں کے کئی بندرگاہوں میں فیملی اور دوست ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ’’جافنا سے جمبو دویپ تک، ہر کوئی فیملی ہے،‘‘ وہ خوشی سے جھومتے ہوئے کہتے ہیں۔ وہ مجھے تفصیلات نہیں بتاتے ہیں، لیکن مجھے اپنے دوست سوپن داس سے ملاتے ہیں – ’’ایئی امار بھائی [یہ میرے بھائی ہیں]،‘‘ مرلی کہتے ہیں، جو تقریباً ۴۰ سال کے ہیں۔






