ماہرین کی رائے میں حکومت کی معاوضہ پالیسی میں ہی کھوٹ ہے۔ اب فصل کٹ گئی ہے، لہٰذا خالی کھیت کو دیکھ کر نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ ایسے میں سرکاری اہلکار بارش کی حالت اور دھان کی فروخت کی بنیاد پر نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔
نقل مکانی کے بارے میں پسدا کا کہنا ہے، ’’ہمارے پاس کسی بھی ضلع سے نقل مکانی کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ معمولی سطح کی نقل مکانی تو ہر سال ہوتی ہے۔ مگر اس سال منریگا کے تحت ۱۳ لاکھ مزدوروں نے انتظامیہ سے کام مانگا ہے۔ اس کے علاوہ سوکھا راحت کی اسکیموں کے تحت کئی کام کیے جانے ہیں۔ ان میں پینے کا پانی اور سینچائی کی اسکیموں سے جڑے کاموں کو ترجیح دی جائے گی۔‘‘
چھتیس گڑھ حکومت کے وزیر زراعت برج موہن اگروال کا کہنا ہے، ’’حکومت نے ایڈمنسٹریٹو افسران کو یہ ذمہ داری تھی کہ وہ کسانوں کو راحت کی رقم بانٹیں، شکایتیں تو ملتی ہی ہیں، پھر بھی مجھے لگتا ہے کہ کسانوں میں اسے لے کر زیادہ غصہ نہیں ہے۔‘‘
ماہر زراعت اور ریاست میں عام آدمی پارٹی کے ریاستی کنوینر سنکیت ٹھاکر کہتے ہیں، ’’حکومت خشک سالی سے نمٹنے کے نام پر معاوضہ بانٹنے کا دکھاوا کرکے اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ رہی ہے۔ راحت کے لیے ضروری رقم بہت ہی کم ہے اور اس میں بھی جم کر بد انتظامی ہو رہی ہے۔‘‘
ٹھاکر کے مطابق، ’’کسانوں کو اس وقت خصوصی تحفظ دینے کی ضرورت ہے کیوں کہ یہ طبقہ غریب ہے، مجبوری میں مہاجرت کر رہا ہے، حالات زیادہ بگڑے تو یہ خود کشی بھی کرنے لگے گا۔ انہیں محض منریگا کے بھروسے نہیں چھوڑا جا سکتا ہے۔‘‘
یہ اسٹوری راجستھان پتریکا کے رائے پور، چھتیس گڑھ ایڈیشن میں ۲۹ فروری، ۲۰۱۶ کو شائع ہوئی۔
مترجم: محمد قمر تبریز