نین رام بجیلا، مُنسیاری تحصیل کے جیتی گاؤں میں، سردی کی ایک صبح کو، اپنے گھر کی چھت پر بیٹھے ٹوکری بُن رہے ہیں۔ اُن کے پیچھے کپڑے کی ایک چادر، اوپر آسمان پر ہلکا بادل، اور تھوڑی دوری پر پنچ چولی کی پہاڑیاں ہیں۔ وہ ایک مڑے ہوئے چاقو سے بانس کی ایک ہمالیائی قسم، رِنگل یا پہاڑی رِنگل کو پتلے ٹکڑوں میں کاٹتے ہیں، جسے وہ پہاڑی زبان میں ’برنش‘ کہتے ہیں۔ منفی درجہ حرارت والے اس علاقہ میں نہ تو ان کے ہاتھوں میں کوئی دستانہ ہے اور نہ ہی پیروں میں موزے، جب کہ ہوا اُن کی جلد میں چبھ رہی ہے۔ لیکن نین رام بغیر رکے ہوئے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
’’میں نے یہ رِنگل کل جنگل سے جمع کیے تھے۔ دو ٹوکریاں بنانے کے لیے یہ چھڑیاں کافی ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں، مجھے یا کیمرہ کو دیکھے بغیر۔ نین رام بانس کی اشیاء ۱۲ سال کی عمر سے ہی بنا رہے ہیں؛ انھوں نے یہ ہنر اپنے والد سے سیکھا تھا، جو اپنے بیٹے کو یہ کام سکھانا نہیں چاہتے تھے، کیوں کہ اس سے کم کمائی ہوتی ہے۔ اس لیے، وہ کہتے ہیں، ’’میں بچپن میں لوگوں کی زمین سے رِنگل چرا لیا کرتا اور پھر ان سے ٹوکریاں، پھول دان، کوڑے دان، قلم دان اور گرم چپاتیاں رکھنے کے باکس بنایا کرتا تھا۔‘‘
نین رام، جن کی عمر اب ۵۴ برس ہے، کہتے ہیں کہ وہ صرف اپنے ہاتھوں اور چاقو کی مدد سے، رِنگل سے کوئی بھی سامان بنا سکتے ہیں۔ ’’یہ میرے لیے ایک طرح سے مٹی جیسا ہے۔ اس سے آپ کچھ بھی بنا سکتے ہیں،‘‘ پتلی اور باریک پٹیوں سے ایک جالی بُنتے ہوئے وہ کہتے ہیں۔ ’’یہ کسی مزدور کا کام نہیں ہے – یہ ایک ہنر ہے۔ تمام آرٹ کی طرح اس کے لیے بھی آپ کو ٹریننگ اور تحمل کی ضرورت پڑتی ہے۔‘‘









