یہ آزادی، احتجاج اور جارحیت کا گیت ہے، جسے مشہور گربا کی ایک دھن پر سجایا گیا ہے۔ یہ صحیح معنوں میں دیہی خواتین کی آواز ہے جو بغیر کوئی سوال کیے وراثت میں ملے ثقافتی ڈھانچہ اور فرمان کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
کچھّ میں بولی جانے والی کئی زبانوں میں سے ایک، گجراتی میں لکھے اس فوک گیت کو دیہی خواتین نے کچھّ مہیلا وکاس سنگٹھن (کے ایم وی ایس) کے ذریعے منعقد ایک ورکشاپ میں حصہ لینے کے دوران لکھا ہے، جس کا اہتمام خواتین کے حقوق کے لیے بیداری پیدا کرنے کی خاطر کیا گیا تھا۔
یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ اسے کب لکھا گیا تھا یا اسے تخلیق کرنے والی عورتیں کون تھیں۔ لیکن بغیر کسی شک کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جو بھی اس فوک گیت کو سنتا ہے، اسے جائیداد میں برابر کا حق مانگنے والی ایک عورت کی مضبوط آواز سنائی دیتی ہے۔
حالانکہ، ہمیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے کہ اصل میں کس حوالہ اور تقریب کے لیے اس فوک گیت کی تخلیق کی گئی تھی، لیکن ہمارے پاس سال ۲۰۰۳ کے آس پاس خواتین کے لیے زمین کا مالکانہ حق اور معاش سے متعلق موضوعات پر پورے گجرات، خاص طور پر کچھّ میں منعقد بحث و مباحثہ اور ورکشاپ کے ریکارڈ موجود ہیں۔ اُس دور میں خواتین کے حقوق کے بارے میں بیداری پیدا کرنے والی مہم میں اکثر زرعی پیداوار میں خواتین کے رول اور انہیں زمین کا مالکانہ حق نہ دیا جانا جیسے موضوعات پر گفتگو ہوتی تھی۔ ہم واضح طور پر یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسی قسم کی گفتگو کے نتیجہ میں یہ فوک گیت وجود میں آیا۔
حالانکہ، اس لوک گیت نے علاقہ کے اندر اور باہر ہر جگہ اپنے قدم پھیلائے ہیں۔ اس سفر کے دوران، جیسا کہ کسی بھی فوک گیت کے ساتھ ہوتا ہے، اس میں کچھ لائنیں جوڑی گئی ہیں، کچھ بدلی گئی ہیں، اور سامعین کو لبھانے کے لیے گلوکاروں نے اس میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ یہاں پیش کردہ اس فوک گیت کو نکھترا تعلقہ کی نندوبا جڈیجہ نے اپنی آواز دی ہے۔
یہ سُر وانی کے ذریعے ریکارڈ کیے گئے ۳۴۱ گیتوں میں سے ایک ہے۔ سُر وانی ایک کمیونٹی ریڈیو ہے، جس کی شروعات ۲۰۰۸ میں ہوئی تھی۔ کچھّ مہیلا وکاس سنگٹھن کے توسط سے یہ مجموعہ ’پاری‘ کے پاس آیا ہے، جو علاقے کی ثقافت، زبان اور موسیقی سے جڑے تنوع کی رواثت کو اپنے گیتوں میں سمیٹے ہوئے ہے۔ اس مجموعہ نے کچھّ کی منظوم روایت کو محفوظ کرنے میں مدد کی ہے، جو کہ اب زوال پذیر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ روایت ریگستان کے دلدل میں دھنستی جا رہی ہے۔



