’’ہمارے سبھی مطالبات جب تک پورے نہیں ہو جاتے، ہم ایسے اور بھی مورچے نکالیں گے،‘‘ مئی کی تپتی دوپہر میں سڑک پر چلتے ہوئے، وجیہ آندھیر نرم لہجہ میں کہتی ہیں۔ ممبئی سے تقریباً ۱۰۰ کلومیٹر شمال میں، تھانے اور پال گھر کے تقریباً ۳۵ ہزار دیگر آدیواسی کسان اُن کے ساتھ چل رہے ہیں۔
تھانے ضلع کے شہا پور تعلقہ کے بورالا-اگھئی گاؤں کی رہنے والی ایک کسان، وجیہ اس سال کے شروع میں – ۶ سے ۱۲ مارچ تک – ناسک سے ممبئی تک کے تاریخی لمبے مارچ میں شریک ہوئی تھیں، جس کا انعقاد کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسوادی) کی معاون، آل انڈیا کسان سبھا (اے آئی کے ایس) کی قیادت میں کیا گیا تھا۔ پچھلے ہفتے وجیہ، اے آئی کے ایس کے ذریعہ نکالے گئے ایک اور مارچ میں شریک ہونے پہنچیں۔ اس دفعہ یہ نِردھار مارچ، آدیواسی کسانوں کی ایک وجے ریلی تھی، اس پختہ ارادہ کو ظاہر کرنے کے لیے کہ اپنے مطالبات کو لے کر ان کی یہ لڑائی جاری رہے گی۔
’’یہ لمبے مارچ کا فالو۔اَپ ہے، ریاستی حکومت پر دباؤ بنائے رکھنے کے لیے کہ اس نے حقِ جنگلات قانون اور دیگر ایشوز کے بارے میں جو تحریری یقین دہانی کرائی تھی، اسے نافذ کرے،‘‘ اے آئی کے ایس کے صدر، اشوک ڈھولے کہتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ دیگر ایشوز میں، مجوزہ ممبئی-ناگپور سمردّھی راج مارگ جیسے پروجیکٹوں کے لیے تحویل اراضی کی سرکار کی اسکیموں کی پرزور مخالفت کرنا شامل ہے۔ ریاست نے اپنی یقین دہانی کی خلاف ورزی کی ہے کہ زمین صرف کسانوں کی رضامندی سے حاصل کی جائے گی۔








