اس سال ۱۱ اگست کو، وسط کشمیر کے بڈگام ضلع کے ژوگو کھیرین کے ۲۱ سالہ واجد احمد آہنگر دیگر نوجوانوں کے ساتھ توسہ میدان میں انوکھا تین روزہ جشن منانے نکل پڑے۔ اس خوبصورت میدان کی گھاس میں ایک (آتشیں) گولہ پڑا تھا، جس میں اچانک دھماکہ ہو گیا۔ واجد، جن کے والد نے بعد میں مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ ’’گھوڑے پر سوار شہزادے کی طرح‘‘ اپنے گھر سے نیا کپڑا پہن کر نکلے تھے، لیکن ان کی لاش گھر واپس آئی۔ تین دیگر افراد بھی زخمی ہوئے تھے۔
جشن ماتم میں تبدیل ہو گیا۔ یہ ایک اور مثال ہے کہ کیسے ماضی کشمیر کو ستا رہا ہے۔
ایک سال پہلے اگست کے مہینہ میں ہی، بڈگام کے کھاگ بلاک کے شُنگلی پورہ گاؤں کے محمد اکرم شیخ نے مجھے اس چراگاہ سے جڑے تہوار، جشنِ توسہ کی اہمیت کے بارے میں بتایا تھا، جس کی شروعات ۲۰۱۵ میں ہوئی تھی۔ سیاحتی تقریب کے طور پر جموں و کشمیر حکومت بھی اس جشن کو فروغ دیتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ یہ جشن کمیونٹی کو کھلے میدان واپس کرنے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔ فوج نے پانچ دہائیوں سے اس میدان پر قبضہ کر رکھا تھا، اسے فائرنگ رینج کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا، لیکن طویل جدوجہد کے بعد فوج نے ۲۰۱۴ میں اسے خالی کر دیا۔
گاؤں والوں نے اس کا جشن منایا کہ دیہاتی برادریوں کی شکل میں اب وہ موت، زخم یا دھمکی سے ڈرے بغیر اپنے معاش کے لیے آزادی سے گھوم سکیں گے۔ انھوں نے واضح طور پر کہا کہ چراگاہ کے خالی ہونے سے ان لوگوں نے راحت کی سانس لی تھی۔
لیکن اگست ۲۰۱۸ کے واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ آزادی کتنی گمراہ کن ہو سکتی ہے، فوج کی تعیناتی کیسے منظرنامہ کو بدل سکتی ہے، اور اس طرح اپنی زندگی اور معاش کے لیے پوری طرح سے زمین پر منحصر لوگوں کو کتنا متاثر کر سکتی ہے۔









