’’میرے بچوں نے کہا کہ بُنائی سے گزارہ نہیں ہوگا۔ اس لیے انھوں نے بھاگلپور جاکر درزی کا کام سیکھا اور ممبئی چلے گئے۔ اب وہ وہاں پر 15000-10 ہزار روپے ماہانہ کماتے ہیں،‘‘ کٹوریا گاؤں کے 60 سالہ ریشم بُنکر عبدالستار انصاری بتاتے ہیں۔
ستار بھائی کو یہ یاد نہیں ہے کہ بُنائی کی روایت کتنی پرانی ہے؛ البتہ انھیں یہ یاد ہے کہ ان کے دادا بُنائی کرتے تھے، جنہیں اپنے دادا کے ذریعے بُنائی کرنے کی بات یاد تھی۔




