اس کا سائز انگلی کے ناخن سے بڑا نہیں ہے۔ پیلے اور سفید رنگ کی ہر کلی انتہائی خوبصورت ہے۔ یہاں وہاں کچھ پھول پوری طرح سے کھل چکے ہیں، جن سے کھیت چمک رہا ہے۔ چاروں طرف پھیلی ان کی تیز خوشبو دماغ کو معطر کر رہی ہے۔ چنبیلی کا پھول گرد آلود زمین، مضبوط پودوں، اور بادلوں سے بھرے ہوئے آسمان کا ایک تحفہ ہے۔
لیکن یہاں کام کرنے والے مزدوروں کے پاس خوشبو پر دھیان دینے کا وقت نہیں ہے۔ انہیں مَلّی (چنبیلی) کو پوری طرح کھلنے سے پہلے ہی پوکڈائی (پھولوں کے بازار) تک پہنچانا ہے۔ بھگوان گنیش جینتی، یعنی ونائک چترتھی میں ابھی چار دن باقی ہیں۔ یہی وہ موقع ہوتا ہے، جب وہ اس کی اچھی قیمت ملنے کی امید کر سکتے ہیں۔
مرد اور عورت اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلیوں کا استعمال کرتے ہوئے، کلیوں کو تیزی سے توڑتے ہیں۔ مٹھی بھر جانے پر وہ انہیں اپنی ساڑیوں یا دھوتی کو موڑ کر بنائے گئے پاؤچ (تھیلی) میں ڈالتے رہتے ہیں اور پھر اسے بوریوں میں لے جا کر انڈیل دیتے ہیں۔ یہ کام مخصوص طریقے سے کیا جاتا ہے: شاخ کو پکڑ کر اپنے پاس لائیں، کلیوں کو توڑیں، پھر اگلے پودے کی طرف بڑھ جائیں، جو تین سال کے بچے جتنا لمبا ہوتا ہے، مزید پھول توڑیں، اور آپس میں باتیں کرتے رہیں۔ ساتھ ہی، ریڈیو پر مشہور تمل گانے سنیں، جب کہ سورج مشرق کی طرف سے دھیرے دھیرے آسمان پر چمکنا شروع ہو جاتا ہے…
جلد ہی یہ پھول مدورئی شہر کے مٹّوتَوَنی بازار میں پہنچا دیے جائیں گے، جہاں سے انہیں تمل ناڈو کے دوسرے شہروں میں بھیجا جائے گا۔ اور بعض دفعہ، انہیں سمندر کے راستے دوسروں ممالک میں بھی بھیجا جاتا ہے۔
پاری نے سال ۲۰۲۱، ۲۰۲۲ اور ۲۰۲۳ میں مدورئی ضلع کے تیرومنگلم اور اوسیلم پٹّی تعلقہ کا دورہ کیا۔ چنبیلی کے یہ کھیت میناکشی مندر اور پھولوں کی بڑی منڈی کے لیے مشہور مدورئی شہر سے ایک گھنٹہ سے بھی کم کی مسافت پر واقع ہیں، جہاں مٹھیوں اور بوریوں کے حساب سے مَلّی فروخت کی جاتی ہے۔




























