’’وہ مجھے مار دیتے…‘‘ نزدیک ہی کھیل رہی اپنی چھ سالہ بچی کی جانب دیکھتے ہوئے ۲۸ سالہ ارونا حیرت زدہ ہو کر کہتی ہیں۔ ’وہ‘ ارونا کے خاندان کے افراد تھے، اور وہ یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ارونا نے ایسا رویہ کیوں اختیار کیا تھا۔ ’’میں چیزیں پھینک دیتی تھی۔ میں گھر میں نہیں رکتی تھی۔ ہمارے گھر کے قریب کوئی نہیں آتا تھا…‘‘
اکثر، وہ تمل ناڈو کے کانچی پورم ضلع میں اپنے گھر کے قریب پہاڑیوں میں ادھر ادھر بھٹکتی رہتی تھیں۔ کچھ لوگ انہیں دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے تھے کہ کہیں وہ انہیں چوٹ نہ پہنچا دیں، جبکہ کچھ دیگر انہیں پتھر پھینک کر مارتے تھے۔ ان کے والد انہیں گھر واپس لے آتے، اور بعض اوقات باہر جانے سے روکنے کے لیے کرسی سے باندھ دیتے تھے۔
جب ارونا (یہ ان کا اصل نام نہیں ہے) کی عمر ۱۸ سال تھی، تو ان میں شیزوفرینیا کی تشخیص ہوئی تھی۔ اس بیماری نے ان کے سوچنے، محسوس کرنے اور رہن سہن کے طریقے کو متاثر کیا تھا۔
کانچی پورم کے چینگل پٹو تعلقہ کے کونڈنگی گاؤں کی دلت کالونی میں اپنے گھر کے باہر بیٹھی ارونا مشکل دنوں کے بارے میں بات کرتے کرتے اچانک وہاں سے اٹھ کر چلی جاتی ہیں۔ گلابی نائٹی میں ملبوس اور باریک کٹے ہوئے سر کے بالوں، لمبی قامت اور سانولی رنگت والی یہ خاتون چلتے ہوئے جھک جاتی ہیں۔ وہ اپنی ایک کمرے کی جھونپڑی میں داخل ہوتی ہیں اور ڈاکٹر کے نسخے اور دو گولیوں کی پٹیوں کے ساتھ واپس آتی ہیں۔ ’’اسے لینے کے بعد مجھے نیند آجاتی ہے۔ دوسری گولی اعصاب سے متعلق مسائل کو روکتی ہے،‘‘ وہ گولیاں دکھاتے ہوئے کہتی ہیں۔ ’’اب اچھی طرح سے سوتی ہوں۔ میں دوائیں لینے کے لیے ہر ماہ سیمبکّم [پرائمری ہیلتھ سنٹر] جاتی ہوں۔‘‘
اگر شانتی سیشا نہ ہوتیں تو ارونا کی بیماری کی تشخیص ہی نہیں ہوئی ہوتی۔



