گنیش سورین کی گب گبی بنگالی فوک میوزک کے ایک مشہور ساز، کھوموک کی آدیواسی اور نئی شکل ہے۔ اسے بنانے کے لیے انہوں نے ڈھول اور اپنے بیٹے کے کھلونوں میں سے ایک کا استعمال کیا۔ اس کی دھُن انہیں اپنے بیٹے کی معصوم ہنسی اور تال جنگل کی یاد دلاتا ہے۔ ’’میں اپنے دماغ کو تروتازہ رکھنے کے لیے، ۱۵ سال سے دونوں ساز بجا رہا ہوں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ایک زمانہ تھا جب میں دن بھر کی مشقت کے بعد شام کو انہیں بجاتا تھا اور لوگ سننے آتے تھے۔ لیکن آج ان کے پاس بہت سارے متبادل ہیں اور کوئی بھی اس بوڑھے شخص کی موسیقی نہیں سننا چاہتا۔‘‘
ان کے گاؤں کے کئی مرد مختلف قصبوں میں راج مستری، یا یومیہ مزدور کے طور پر کام کرتے ہیں، اور ان میں سے کچھ اب بھی اپنے ساتھ بانم لے جاتے ہیں۔ لیکن اب بہت سے لوگ موسیقی کی اس روایت کو سیکھنا نہیں چاہتے، گنیش اور ہوپون کہتے ہیں۔ ’’ہمارے گاؤں اور ہماری برادری میں بہت کم لوگ ہیں، جو اس انوکھی آواز کو بنانے کاعلم اور ہنر رکھتے ہیں،‘‘ ہوپون کہتے ہیں۔
’’ہمارے مقامی اسکول میں کچھ پرجوش طلبہ ہونے چاہئیں، تاکہ ہم وہاں جاکر انہیں اس کے بارے میں پڑھا سکیں،‘‘ گنیش کہتے ہیں۔ لیکن، وہ کہتے ہیں، آج کی نسل کو ایک بٹن کے کلک پر گانے اور موبائل ایپ دستیاب ہیں۔ پھر ان کی دلچسپی بانم میں کیسے ہو سکتی ہے؟
گنیش اور ہوپون کے پاس نہ تو موبائل فون ہے اور نہ ہی وہ اسے خرید سکتے ہیں۔
گنیش اور ہوپون دونوں اپنے عزیز بانم کے زوال کا ایک سبب اپنی اقتصادی حالت کو بھی بتاتے ہیں۔ وہ غریب زرعی مزدور ہیں جو کم مزدوری پر کئی گھنٹے کام کرتے ہیں۔ ’’اگر میں بانم بجانا چاہوں، تو میری فیملی کو کئی دنوں تک بھوکا رہنا پڑے گا،‘‘ گنیش کہتے ہیں۔
’’ساز و موسیقی ہماری بھوک نہیں مٹا سکتے،‘‘ ہوپون کہتے ہیں۔
مترجم: محمد قمر تبریز