’’ہمیں پیر [۱۶ مارچ] کے بعد سے کوئی کام نہیں ملا ہے۔ میں پیسے کہاں سے لاؤں؟‘‘ وندنا اُمبرسڈا اپنی سات سال کی پوتی کی طرف اشارہ کرکے کہتی ہیں، جو ان سے ۵ روپے حاصل کرنے کی لگاتار کوشش کر رہی ہے۔
پالگھر ضلع کے کَوَٹے پاڑہ میں اپنے گھر کے آنگن میں بیٹھی ۵۵ سالہ وندنا، جو مہاراشٹر کے واڈا تعلقہ میں مختلف تعمیراتی مقامات پر کام کرتی ہیں، کہتی ہیں، ’’ہمیں نہیں معلوم کہ کیا ہو رہا ہے۔ میرے بیٹے نے مجھ سے گھر پر رہنے کے لیے کہا، کیوں کہ ہمارے آس پاس ایک بیماری پھیلی ہوئی ہے اور سرکار نے کہا ہے کہ ہم اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔‘‘
دن کے تقریباً ۴ بجے ہیں، اور وندنا کے کئی پڑوسی ان کے گھر کے باہر جمع ہوکر مختلف امور پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں، خاص طور سے موجودہ کووِڈ- ۱۹ بحران کے بارے میں۔ ان میں سے صرف ایک، نوجوان لڑکی، کہتی ہے کہ بات کرتے وقت ہر کسی کو ایک دوسرے سے کچھ دوری بنائے رکھنی چاہیے۔ یہاں کے لوگوں کا اندازہ ہے کہ کَوَٹے پاڑہ میں تقریباً ۷۰ گھر ہیں، اور ہر ایک فیملی کا تعلق آدیواسیوں کی وارلی برادری سے ہے۔
ریاست گیر لاک ڈاؤن (تالابندی) شروع ہونے سے پہلے، وندنا اور ان کی پڑوسن منیتا اُمبرسڈا صبح ۸ بجے اپنے دن کی شروعات کرتیں، اور ایک گھنٹہ میں ۱۰ کلومیٹر پیدل چلنے کے بعد واڈا شہر اور اس کے ارد گرد کے تعمیراتی مقامات پر پہنچتیں وہاں، صبح ۹ بجے سے شام ۶ بجے تک مزدوری کرنے کے بعد، وہ ۲۰۰ روپے کماتی تھیں۔ وندنا کہتی ہیں کہ اس سے انہیں ہر ماہ تقریباً ۴۰۰۰ روپے مل جایا کرتے تھے۔ لیکن اب تعمیراتی مقامات کے ٹھیکہ داروں کے پاس ان کے لیے کوئی کام نہیں بچا ہے۔
’’میرے بیٹوں کو بھی کوئی کام نہیں مل رہا ہے۔ ہمیں کھانا خریدنے کی ضرورت ہے، لیکن بغیر کام کیے ہمیں پیسہ کیسے ملے گا؟‘‘ وہ سوال کرتی ہیں۔ ’’ہمارے راشن ختم ہو رہے ہیں۔ کیا ہم صرف چٹنی بناکر اپنے بچوں کو کھلائیں؟ میں چاہتی ہوں کہ یہ جلد ختم ہو جائے۔‘‘
وندنا کے تین بیٹے اور ۱۱ پوتے پوتیاں ہیں۔ ان کے بیٹے ۱۶۸ گاؤوں اور ۱۵۴۴۱۶ لوگوں کی آبادی والے تعلقہ، واڈا میں اینٹ بھٹّوں یا تعمیراتی مقامات پر کام کرتے ہیں۔ وندنا کے شوہر لکشمن، جو ایک مقامی دکان میں کام کرتے تھے، کی موت ۱۵ سال قبل بہت زیادہ شراب پینے کی وجہ سے ہو گئی تھی۔







