آر کیلاشم عموماً بینک سے لوٹتے وقت مضطرب رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’’میں جب بھی اپنا پا س بُک اپ ڈیٹ کرانے جاتا ہوں، وہ یہ کہتے ہوئے مجھے واپس بھیج دیتے ہیں کہ مشین کی مرمت ہو رہی ہے، یا اگلی بار آنا۔‘‘
وہ بھی تب، جب انہیں اپنی بستی بنگلا میڈو سے تقریباً پانچ کلومیٹر دور، کے جی کنڈی گئی شہر میں واقع بینک پہنچنے کے لیے تقریباً دو گھنٹے تک پیدل چل کر جانا پڑتا ہے۔ (ایک سال پہلے تک، آدھی دوری طے کرنے کے لیے بس سروس دستیاب تھی، لیکن وہ بھی اب بند ہو چکی ہے)۔
بینک میں ان کی اصل جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ تمل ناڈو کے تیروولّور ضلع میں، کینرا بینک کی کے جی کندیگئی شاخ میں، پاس بُک میں اندراج کرانے کے لیے خودکار مشین لگی ہوئی ہے۔ کیلاشم اس مشین کا استعمال کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔ ’’یہ میری لیے کام نہیں کرتی ہے،‘‘ وہ کہتے ہیں۔
ایک دن صبح کو، جب وہ بینک سے متعلق اپنی یہ پریشانی مجھے بتا رہے تھے، تو ویلی کاتھن درخت کے سایہ میں پاس ہی زمین پر بیٹھی کچھ خواتین ہمارے بات چیت میں شامل ہو جاتی ہیں۔ ’’تاتا [دادا]، اندراج کرانے کے لیے آپ کے پاس بُک پر ایک اسٹیکر ہونا چاہیے،‘‘ ان میں سے ایک خاتون کہتی ہیں۔ ان کا کہنا صحیح ہے: کیلاشم کے پاس بُک پر بار کوڈ نہیں ہے، جو مشین کے کام کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ’’مجھے نہیں معلوم کہ انہوں نے اسٹیکر کیوں نہیں دیا۔ مجھے یہ چیزیں سمجھ میں نہیں آتیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ اُن عورتوں کو بھی زیادہ جانکاری نہیں ہے اور وہ صرف قیاس آرائی کر رہی ہیں: ’’اگر آپ کو [اے ٹی ایم] کارڈ ملا ہے، تو اسٹیکر بھی ملے گا،‘‘ ان میں سے ایک کہتی ہے۔ ’’آپ کو ۵۰۰ روپے دیکر نیا اکاؤنٹ کھلوانا پڑے گا،‘‘ دوسری کہتی ہے۔ ’’اگر آپ کا زیرو اکاؤنٹ ہے، تو آپ کو یہ نہیں ملے گا،‘‘ تیسری عورت کہتی ہے۔ کیلاشم حیرانی سے ان کا چہرہ دیکھتے ہیں۔
بینک کی اس جدوجہد میں وہ اکیلے نہیں ہیں۔ بنگلا میڈو میں ایسے بہت سے لوگ ہیں، جن کے لیے اپنے اکاؤنٹ کا انتظام کرنا، پیسے نکالنا یا اپنی آمدنی کا پتا لگانا آسان نہیں ہے۔ سرکاری طور پر چیروکّنور ایرولا کالونی کے نام سے مشہور ان کی بستی، تیروتّانی بلاک میں بہت سی کھلی ہوئی جھاڑیوں کے درمیان ایک واحد سڑک ہے۔ سڑک کے دونوں طرف ۳۵ ایرولا کنبوں کی چھوٹی جھونپڑیاں اور دو چار پختہ مکان ہیں۔ (سرکاری دستاویزات میں اب اس برادری کا نام عام طور سے ایرولار لکھا جاتا ہے۔)
ساٹھ سالہ کیلاشم اور ان کی بیوی، ۴۵ سالہ سنجے یمّا ایک کچی جھونپڑی میں رہتے ہیں، جس کی چھت گھاس کی ہے۔ ان کے پاس چار بکریاں ہیں، جن کی دیکھ بھال سنجے یمّا کرتی ہیں؛ ان کے چار بالغ بچے اپنی اپنی فیملی کے ساتھ باہر جا چکے ہیں۔ یومیہ اجرت کا کام کرنے والے کیلاشم کہتے ہیں، ’’کھیتوں میں کام کرتے وقت مجھے دن بھر جھکے رہنا پڑتا ہے۔ اس کی وجہ سے میری پیٹھ میں شدید درد ہوتا ہے اور میری ہڈیاں ٹوٹنے لگتی ہیں۔ آج کل میں ایری ویلئی [تالاب کھودنے کا کام، جیسا کہ منریگا کے کام کو یہاں کہا جاتا ہے] کو ترجیح دیتا ہوں۔‘‘ مہاتما گاندھی قومی دیہی روزگار گارنٹی قانون ۲۰۰۵ (منریگا) ہر ایک دیہی فیملی کو سال میں کم از کم ۱۰۰ دنوں کی مزدوری کا کام مہیا کرتا ہے – لیکن بنگلا میڈو کے ایرولاؤں کو ۱۰۰ دنوں کا کام شاید ہی کبھی ملتا ہے۔











