ہیرا مُکانے ۲۷ مارچ کو جب تھانے ضلع کے شاہ پور تلعقہ کے ڈالکھن گاؤں کے باہر واقع اپنے گھر پہنچیں، تو اس وقت رات کے ایک بج رہے تھے ہیرا، ان کا بیٹا منوج اور بہو شالو ایک پل کے لیے بھی بغیر کہیں رکے ۱۰۴ کلومیٹر پیدل چلے تھے۔ وہ لوگ پالگھر ضلع کے دہانو تعلقہ کے گنجڑ گاؤں کے قریب واقع اینٹ بھٹی، جہاں وہ لوگ کام کرنے گئے تھے، وہاں سے پیدل لوٹے تھے۔
’’کوئی بھی گاڑی نہیں ملی، اس لیے ہم پورا دن پیدل چلے۔ ویسے تو ایس ٹی [اسٹیٹ ٹرانسپورٹ] کی بسیں گنجڑ سے شاہ پور جاتی ہیں،‘‘ ۴۵ سالہ ہیرا کہتی ہیں۔ وہ لوگ ۲۶ مارچ کو صبح ۴ بجے نکلے تھے، ہیرا اور شالو اپنے سر پر کپڑوں کی پوٹلی اور برتنوں کا بورا اٹھائے ہوئے۔ اس ۲۱ گھنٹے کے سفر میں، منوج نے اپنے سر پر ۱۲ کلو چاول کا بورا اٹھا رکھا تھا اور ہاتھ میں ۸ کلو راگی کے آٹے کا بورا پکڑا ہوا تھا۔ ’’ہمارے پیر درد نہیں کرتے ہیں کیوں کہ ہمیں تو ویسے بھی ایس ٹی کی ناقص سروِس کی وجہ سے لمبی دوری پیدل چلنے کی عادت ہے۔ لیکن ہم اب کچھ کما نہیں پائیں گے، اس کا زیادہ افسوس ہے،‘‘ وہ بتاتی ہیں۔
جب ہیرا، ۲۷ سال کے منوج اور ۲۵ سال کی شالو کے ساتھ ۲ مارچ کو اینٹ کی بھٹی پر کام کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکلی تھیں، تب انہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ لوگ اب اس سال مئی میں لوٹ کر آئیں گے۔ لیکن ۲۴ مارچ سے ملک گیر لاک ڈاؤن کے سبب ان کا یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا۔ ’’مارچ سے مئی کے درمیان میں ہم لوگ کم از کم ۵۰ ہزار روپے کمانے کی امید کر رہے تھے،‘‘ ہیرا نے مجھے فون پر بتایا۔ ’’مالک نے کام بند کروا دیا اور ہمیں واپس جانے کے لیے کہا۔ انہوں نے ہمیں تین ہفتے کے صرف ۸ ہزار روپے ہی دیے۔‘‘
اس لیے مارچ کے آخر میں جب تینوں اچانک ڈالکھن لوٹے، تب ہیرا کے شوہر وٹھل (۵۲) اور ان کی ۱۵ سالہ بیٹی سنگیتا ان کو دیکھ کر حیران رہ گئے – ہیرا انہیں فون پر اپنے واپس آنے کے بارے میں نہیں بتا پائی تھیں۔ باقی لوگ جب گنجڑ گئے تھے تو وٹھل، جنہیں سکل سیل کی بیماری ہے اور جو جسمانی کام نہیں کر سکتے، وہ گاؤں میں سنگیتا کے ساتھ ہی رک گئے تھے۔
میں ہیرا سے جولائی ۲۰۱۸ میں ڈالکھن میں ملی تھی، جب وہ فیملی کے رات کے کھانے کے لیے کھیت میں سبزیاں توڑ رہی تھیں۔ وہ کاتکری آدیواسی قبیلہ کی ہیں، جو مہاراشٹر میں خاص طور سے کمزور درج فہرست قبائل میں سے ایک ہے۔






