رخسانہ خاتون نے دو سال پہلے، بہار کے دربھنگہ ضلع میں اپنے شوہر کے گاؤں، موہن بہیرا سے راشن کارڈ بنوانے کے لیے درخواست دی تھی۔ اسی مہینے میں ان کی فیملی کا پکّا مکان بن جانے کے بعد، انہوں نے آدھار کارڈ کے لیے بھی درخواست دی تھی، جو انہیں مل چکا ہے۔ راشن کارڈ کے لیے وہ دو بار پہلے بھی درخواست دے چکی تھیں، لیکن یہ کبھی نہیں آیا۔
اگست ۲۰۱۸ میں یہ ان کی تیسری کوشش تھی، اور وہ انتظار کرنے کے لیے تیار تھیں۔
رخسانہ (۳۰) اور ان کے شوہر، محمد وکیل (۳۴) کڑی محنت کرکے اپنا گھر چلا رہے تھے۔ رخسانہ مغربی دہلی کے پٹیل نگر میں پانچ گھروں میں بطور ملازمہ اور ان کے شوہر بطور درزی کام کرکے، مشترکہ طور پر ہر مہینے ۲۷ ہزار روپے کما لیتے تھے۔ اپنی چھ رکنی فیملی (۱۲ سال، ۸ سال اور ۲ سال کی تین بیٹیاں اور ۱۰ سال کا ایک بیٹا) کا پورا خرچ برداشت کرنے اور گاؤں میں وکیل کی ماں، ایک خاتونِ خانہ، کو ۲ ہزار روپے بھیجنے کے بعد، میاں بیوی ہر مہینے تھوڑا پیسہ بچا لیتے تھے۔
ان کی کڑی محنت رنگ لا رہی تھی۔ وکیل نے مغربی دہلی کے نیو رنجیت نگر میں کپڑے کی سلائی کی خود اپنی ایک چھوٹی دکان کھول لی تھی، اور ۱۲ ہزار روپے سے زیادہ کمانے کی امید میں انہوں نے اپنی دکان پر ایک ملازم بھی رکھ لیا تھا۔ یہ ۱۵ مارچ، ۲۰۲۰ کی بات ہے۔
مشکل سے ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ پورے ہندوستان میں ملک گیر لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا۔
رخسانہ کے مالک نے انہیں کام پر آنے سے منع کر دیا اور یہ بات جلد ہی واضح ہو گئی کہ لاک ڈاؤن کے مہینوں میں انہیں اجرت نہیں ملنے والی ہے۔ اب وہ پانچ گھروں میں کام کرکے ماہانہ ۱۵ ہزار روپے کمانے کے بجائے، صرف ایک گھر میں کھانا پکاکر صرف ۲۴۰۰ روپے کما رہی تھیں۔ جون میں ان کی یہ نوکری بھی چلی گئی، لیکن جلد ہی انہیں ایک اور جگہ صفائی کرنے اور کھانا پکانے کا کام مل گیا، جہاں نئی مالکن، ’بیماری پھیلانے والوں‘ کی خبروں سے فکرمند ہوکر جاننا چاہتی تھی کہ کیا یہ کسی مسجد میں تو نہیں گئی تھیں۔ ’’مجھے برا نہیں لگا۔ ہر کوئی کورونا سے ڈرا ہوا ہے، اس لیے میں ان کی تشویش کو سمجھتی ہوں،‘‘ رخسانہ نے کہا۔








