سال ۲۰۲۰ میں کورونا وبائی مرض کی وجہ سے لاک ڈاؤن کا اعلان ہو گیا تھا۔ گاؤں سے خبر آئی تھی کہ میرے دادا گر گئے تھے اور ان کا پیر ٹوٹ گیا تھا۔ صحت عامہ کے مرکز سے ڈاکٹر غائب تھے۔ آس پاس کے تمام پرائیویٹ کلینک کورونا کی وجہ سے بند تھے۔ دادا کے ٹوٹے پیر پر گھر والوں نے جیسے تیسے پلاسٹر چڑھوا دیا تھا اور گھر پر ہی ان کی دیکھ بھال ہونے لگی۔ لیکن، کبھی بخار تو کبھی پیر میں شدید درد کی وجہ سے ان کی چیخیں نکل جاتیں۔ ان کا جسم کمزور ہوتا گیا، اور مئی کے آخر میں انہوں نے آخری سانس لی۔
اس حادثہ کے وقت میں ممبئی میں تھا۔ اچانک سب کچھ بند ہو جانے کی وجہ سے لوگوں کی زندگی میں طوفان سا آ گیا تھا۔ ایک طرف وبائی مرض کا خوف ستائے جا رہا تھا، تو دوسری طرف سڑکوں پر پولیس ڈنڈے برسا رہی تھی۔ کام کاج ٹھپ تھا، مہاجر مزدور اپنے گاؤں کی جانب لوٹنے لگے تھے۔ میں ممبئی میں رکا رہا، کیوں کہ سبزی بیچتا تھا، اور اس کی وہاں اجازت تھی۔ لیکن، اتر پردیش کے جونپور ضلع میں واقع میرے گاؤں سے جب دادا کے گزر جانے کی خبر آئی، تو گھر جانے کے لیے بے تاب ہو اٹھا۔ ان کے ساتھ میرا جذباتی رشتہ تھا۔ اس کے علاوہ، گاؤں میں ماں کے سوا کوئی دوسرا ذمہ دار انسان بھی موجود نہیں تھا۔
یہی وہ دور تھا، جب کئی خبروں نے اندر سے توڑ دیا تھا۔ کچھ مزدور پیدل اپنے گھر کی طرف جا رہے تھے، اور رات میں تھکان کی وجہ سے ٹرین کی پٹری پر ہی سو گئے تھے۔ ٹرین آئی اور انہیں کاٹتی ہوئی چلی گئی تھی۔ کوئی ماں بغیر دانہ پانی کے گود میں دودھ پیتا بچہ لیے چل رہی تھی۔ میں نے دادا کے انتقال کے بعد پیکنگ کی اور ٹرین کا پتہ لگانے کے لیے ممبئی کے اندھیری (ویسٹ) کے قریبی تھانہ میں گیا۔ لیکن وہاں جانے پر معلوم ہوا کہ الہ آباد جانے والی ٹرین نہیں چل رہی ہے۔ اسی درمیان وارانسی میں ٹرین کے اندر سے دو لاشیں ملنے کی خبر آئی۔ ایک ٹرین کو اتر پردیش جانا تھا، لیکن وہ اوڈیشہ نکل گئی۔ اور مجھے تو گاؤں تک پہنچنے کے لیے الہ آباد (پریاگ راج) سے بھی ۷۰ کلومیٹر آگے جانا تھا، اس لیے ان خبروں نے ٹوٹتے حوصلہ کو اور توڑ دیا۔ ٹیکسی بُک کرکے کوئی جانا چاہے، تو جا سکتا تھا، جس کے لیے ۵۰-۴۰ ہزار روپے چُکانے ہوتے۔ لیکن، میرے لیے یہ ممکن نہیں تھا، اس لیے میں نے گاؤں جانے کا ارادہ ترک کر دیا۔ اس کے علاوہ، کوئی اور راستہ نہیں تھا۔























