’’سبھی بوڈو لڑکیوں کی طرح، میں بھی اپنی ماں کو بُنائی کرتے دیکھ بڑی ہوئی،‘‘ ساما برہما کہتی ہیں۔ وہ نچلے آسام میں، بوڈولینڈ کے چرانگ ضلع میں ایئی ندی کے کنارے، ہرے دھان کے کھیتوں کے درمیان واقع ایک چھوٹے سے گاؤں، کھُجرابگوری نمبر ۲ میں اپنے گھر کے برآمدے میں، بانس کے پیڈل والے کرگھے پر بیٹھی ہیں۔
سب سے قریبی شہر، بونگائی گاؤں، تقریباً ۲۰ کلومیٹر دور ہے۔ ندی کا ریتیلا ساحل، ۸۷ گھروں والے ان کے گاؤں کے راستے میں، کچھ حصے تک، سڑک کا کام کرتا ہے؛ ایک جگہ ٹوٹا ہوا بانس کا پل ہے، جسے پیدل چلتے ہوئے احتیاط کے ساتھ پار کرنا پڑتا ہے۔
آسام کے گاؤوں میں، بوڈو برادری کے ہر گھر میں کرگھا ہوتا ہے۔ اس برادری (آسام میں ’بورو‘) کو درج فہرست قبائل کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ بُنائی کو خواتین، اور آئندہ بننے والی دلہن میں بیش قیمتی ہنر کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن، صرف ساما جیسی کچھ خواتین نے ہی اس روایتی ہنر کا استعمال پیسہ کمانے کے لیے کیا ہے۔
’’میں نے ۱۵ سال کی عمر سے پہلے ہی بُنائی شروع کر دی تھی، اور سلا ماتا کپڑا [سادہ کپڑے] کی بُنائی کرکے اپنی تکنیک کو بہتر کیا ہے،‘‘ ۴۲ سالہ ساما کہتی ہیں۔ ’’جیسے جیسے میرا اعتماد بڑھتا گیا، میں گوموسا [شال جیسا لباس] اور بیڈ شیٹ (چادر) جیسی روزمرہ استعمال کی چیزیں بُننے لگی۔ لیکن مجھے سب سے زیادہ مزہ ڈاکھونا [جو ساڑی جیسا ہوتا ہے] کی بُنائی کرنے میں آیا، خاص طور سے پیچیدہ پھولوں کی ڈیزائن کے ساتھ۔‘‘








