جولائی کے آخر میں، تلنگانہ کے عادل آباد ضلع میں ستھ نالا آبی ذخیرہ بھرا ہوا تھا۔ کارنجی گاؤں کے کسان خوش تھے کہ وہ اس سے اپنی خریف اور ربیع دونوں ہی موسموں کی فصلوں کی سینچائی کر پائیں گے۔ لیکن ۱۶ اور ۱۷ اگست کو ہونے والی بھاری بارش سے تقریباً ۲۰۰ ملی میٹر پانی بھر گیا۔ اس کی وجہ سے پین گنگا – جو آخرکار گوداوری سے جاکر مل جاتی ہے – کی معاون ستھ نالا ندی کے آگے اور پیچھے کے بہاؤ کی سمت میں واقع نہروں کے کنارے کے کھیتوں میں پانی بھر گیا۔ سیلاب اپنے ساتھ فصلوں کو بھی بہا لے گیا – خاص طور سے کپاس، کچھ سویابین – اور کھیت میں صرف پتھر اور ریت چھوڑ گیا۔
اس سال جون سے اگست کے درمیان، عادل آباد میں ان مہینوں میں تقریباً ۸۸۰ ملی میٹر کے مقابلے ۴۴ فیصد زیادہ بارش ہوئی۔ پچھلے سال، اسی مہینے کے دوران، ضلع میں معمول سے ۲۷ فیصد کم بارش ہوئی تھی، جیسا کہ ہندوستانی محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں۔ لہٰذا کئی کسانوں کے لیے ۲۰۱۷ جہاں ایک کم آمدنی والا سال تھا، وہیں ۲۰۱۸ صفر آمدنی والا رہا۔
ان میں سے ایک، ستھ نالا باندھ کے بہاؤ کے علاقے میں واقع جیناڈ منڈل کے تقریباً ۱۳۶۰ لوگوں کی آبادی والے گاؤں، کارنجی کی کُنٹاوار سنگیتا ہیں۔ جون میں، وہ اور ان کے شوہر گجانن نے اپنی پہلی – کپاس کی – فصل اس امید میں لگائی تھی کہ وہ اسے جنوری-فروری ۲۰۱۹ میں کاٹیں گے۔
خود اپنی زمین پر اس پہلی بوائی سے قبل، سنگیتا ایک زرعی مزدور تھیں۔ گجانن بھی ۸۶ ہزار روپے کی سالانہ اجرت پر زرعی مزدور کے طور پر کام کیا کرتے تھے۔ وہ زمیندار کی اس شرط کے ساتھ ملازمت کر رہے تھے کہ سنگیتا بھی اسی کھیت پر کام کریں گی۔ ان کے کام کے دن رک رک چلتے تھے، اور وہ ایک دن کے ۱۲۰ روپے پاتی تھیں۔ ’’پچھلے تین سال ہم نے مالک (زمیندار) کے ساتھ کام کیا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ انہیں جب کام نہیں ملتا تھا، تو منریگا کے توسط سے یومیہ مزدوری ان کی مدد کرتی تھی۔ ’’یا میں [پرائیویٹ ٹھیکہ دار کے لیے، پین گنگا سے] ٹریکٹروں پر ریت بھرتا اور نیچے اتارتا،‘‘ گجانن کہتے ہیں۔








