سفید اور زرد رنگوں سے رنگا چہرہ، تین سرخ گولے – ایک ناک پر اور دو گالوں پر بنے، سر پر آسمانی رنگ کی پلاسٹک کی کام چلاؤ جوکر والی ٹوپی، ہونٹوں پر ایک مذاقیہ گیت کے بول تھے اور جسم کے اعضاء میں ایک لاپرواہ لے – وہ ہنسی مذاق کی ایک چلتی پھرتی دکان لگ رہے تھے۔ ہمیشہ کی طرح شور شرابہ ہو رہا تھا۔ یہلل انّا کے آرٹ کیمپ کی شروعات اسی طرح ہوتی ہے، چاہے وہ جوادو کی پہاڑیوں میں واقع ایک چھوٹے سے سرکاری اسکول میں لگا ہو یا چنئی کے کسی پرائیویٹ اسکول میں، ستیہ منگلم کے جنگلوں (ایروڈ ضلع) میں آدیواسی بچوں کے لیے ہو یا جسمانی طور سے معذور بچوں کے لیے۔ انّا نے ایک گیت، ایک چھوٹا سا پس منظر سنایا ہے، جس سے بچے اپنی جھجک بھول کر دوڑنے لگتے ہیں، کھیلتے ہیں، ہنستے ہیں، اور ساتھ گانے لگتے ہیں۔
انّا ایک ماہر فنکار ہیں اور انہیں کبھی اسکولوں میں دستیاب سہولیات کو لے کر کوئی فکرمندی نہیں ہوتی۔ وہ کوئی مطالبہ نہیں کرتے۔ نہ کوئی الگ ہوٹل یا ٹھہرنے کا انتظام چاہتے ہیں، اور نہ ہی کوئی مخصوص آلہ مانگتے ہیں۔ وہ بجلی، پانی یا کسی جدید فنی ساز و سامان کے بغیر بھی اپنا کام چلا لیتے ہیں۔ ان کی پوری توجہ صرف بچوں سے ملنے، بات چیت کرنے، اور ان کے ساتھ کام کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ باقی کچھ بھی ان کے لیے معنی نہیں رکھتا۔ آپ بچوں کو ان کی زندگی سے الگ نہیں کر سکتے۔ جب بات بچوں کی ہو، تو وہ دلکش اور سرگرم انسان بن جاتے ہیں۔
ایک بار، ستیہ منگلم کے ایک گاؤں میں انہوں نے ایسے بچوں کے ساتھ کام کیا جنہوں نے پہلے کبھی رنگ نہیں دیکھے تھے۔ انہوں نے رنگوں کا پہلی بار استعمال کرکے اپنے تصور سے کچھ بنانے میں ان بچوں کی مدد کی۔ یہ ان بچوں کے لیے ایک نیا تجربہ تھا۔ تقریباً ۲۲ سال پہلے جب انہوں نے اپنا آرٹ اسکول، کلیمن ویرلگل [مٹی کی انگلیاں] شروع کیا، تب سے وہ لگاتار بچوں کو ایسے تجربات سے روبرو کرواتے رہے ہیں۔ میں نے انہیں کبھی بیمار پڑتے نہیں دیکھا۔ بچوں کے ساتھ کام کرنا ہی ان کا علاج ہے اور ان کے درمیان فنی پیشکش کے لیے وہ ہمیشہ تیار رہے۔
انّا نے تقریباً ۳۰ سال پہلے، سال ۱۹۹۲ میں چنئی فائن آرٹس کالج سے فائن آرٹس میں گریجویشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’’کالج کے میرے سینئر، پینٹر تیرو تمل سیل وَن، کاسٹیوم ڈیزائنر جناب پربھاکرن، اور پینٹر جناب راج موہن نے کالج کے دنوں میں میری بہت مدد کی تھی اور مجھے میری ڈگری مکمل کرنے میں بھی مدد کی۔ ٹیرا کوٹا مجسمہ سازی کا کورس کرنے کے بعد، فنکارانہ کاموں کو اچھی طرح سیکھنے اور ان میں تجربہ حاصل کرنے کے لیے میں چنئی کی للت کلا اکیڈمی کے ساتھ جڑ گیا۔‘‘ انہوں نے کچھ دنوں تک اپنے مورتی بنانے والے اسٹوڈیو میں بھی کام کیا۔
وہ کہتے ہیں، ’’لیکن جب میرا کام (مورتیاں وغیرہ) فروخت ہونے لگا، تو مجھے محسوس ہوا کہ وہ عام لوگوں تک نہیں پہنچ رہا ہے۔ اس لیے، میں نے عوام کے درمیان فنکارانہ سرگرمیاں شروع کیں، اور طے کیا کہ دیہی علاقے، یعنی تمل ناڈو کے پانچ گوشے [پہاڑ، ساحل سمندر، ریگستان، جنگل، کھیت] ہی میرا میدانِ عمل ہیں، جہاں میں موجود ہونا چاہتا ہوں۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ کام کرنا شروع کیا اور مٹی و دستکاری کے ذریعے کھلونے بنانے لگا۔‘‘ انہوں نے بچوں کو پیپر ماسک (کاغذ کے مکھوٹے)، کلے ماسک (مٹی کے مکھوٹے)، کلے ماڈل (مٹی کی مورتیاں اور دیگر سامان)، خاکہ نگاری (ڈرائنگ)، مصوری (پینٹنگ)، گلاس پینٹنگ (شیشے پر تصویر کشی) اور اوریگیمی (کاغذ کو مختلف شکلوں میں فنکارانہ طریقے سے موڑنے کا فن) سکھانا شروع کیا۔