اوکھی طوفان کے گزر جانے کے ہفتوں بعد بھی اَلیل، جان پال دوئم اسٹریٹ پر واقع اپنے گھر کے برآمدہ میں کھڑا ہے۔ دو سال کا یہ بچہ وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو دیکھ کر مسکراتا ہے، اور گھر تک آنے والے کچے راستے کو بار بار دیکھتا رہتا ہے، اس امید میں کہ اس راستے سے آنے والا اگلا آدمی اس کے والد، یسو داس ہو سکتے ہیں۔
اس سڑک پر واقع کچھ گھروں کو ستاروں اور قمقموں سے سجایا گیا ہے۔ لیکن اجی کُٹّن (گھر والے پیار سے الیل کو اسی نام سے پکارتے ہیں) اندھیرے میں کھڑا ہے۔ اس کی ماں اجیتھا (۳۳)، جو ایک خاتونِ خانہ ہیں، گھر کے اندر موجود ہیں اور رو رہی ہیں؛ وہ کئی دنوں سے بستر پر پڑی ہوئی ہیں۔ اجی کُٹّن بار بار ان کے پاس آکر انھیں گلے لگا لیتا ہے اور پھر برآمدہ میں واپس لوٹ جاتا ہے۔
یہ کرسمس ۲۰۱۷ سے کچھ دن پہلے کی بات ہے۔ اس کی ماں نے اس چھوٹے بچہ کو یقین دلایا تھا کہ یسو داس کرسمس کے دن آ جائیں گے، اور اپنے ساتھ نئے کپڑے اور کیک بھی لائیں گے۔ لیکن الیل کے والد نہیں لوٹے۔
یسو داس شِمایوں (۳۸)، ان ماہی گیروں میں سے ایک تھے، جو ۳۰ نومبر کو طوفان کے آنے کے وقت کیرالہ کے ترواننت پورم ضلع کے نیٹ ٹنکارا تعلق میں واقع کروڈ گاؤں کے اپنے تین کمروں والے گھر سے روانہ ہوئے تھے۔ وہ اپنے چار ساتھیوں کے ہمراہ، ۲۹ نومبر کی شام کو سمندر میں گئے تھے۔ ان میں سے ایک ان کا پڑوسی الیگزنڈر پوڈی تھمپی (۲۸) تھا، جب کہ باقی تین تمل ناڈو کے تھے۔ الیگزنڈر اور ان کی بیوی جیسمن جان (۲۱) کی ایک ۱۰ ماہ کی چھوٹی بچی، اَشمی الیکس ہے۔






