یش مہا لُنگے مانسون میں اسکول جانے کے لیے روزانہ اپنی جان خطرے میں ڈالتا ہے۔ آٹھ سالہ یش دیگر لڑکے لڑکیوں کے گروہ اور کچھ سرپرستوں کے ساتھ اس پتلی سی پھسلن والی دیوار پر چلتا ہے، جو ایک جزوی طور پر مسمار ہو چکے پل کے ستونوں کے اوپر ٹکی ہے۔ وہاں سے گرنے پر، آدمی کئی فٹ نیچے جھاڑیوں اور کیچڑ میں پہنچ جائے گا۔
ہر صبح اسکول آتے جاتے وقت دو بار یہ گروہ، بھاری بیگ ٹانگے اور ایک ہاتھ میں چھاتا لیے ایک لائن میں چلتا ہے، جن میں سے زیادہ تر بچے ننگے پاؤں ہوتے ہیں۔ ۳۰ سیکنڈ کے خطرناک راستے کے بعد ان کے پاؤں باقی بچے پل کی محفوظ ٹھوس سطح کو چھوتے ہیں۔ پھر وہ اور پالہیری بستی میں واقع اپنے گھروں تک جانے کے لیے کیچڑ بھرے راستے پر چلتے ہیں – جو اُن کے اسکول سے ۲ کلومیٹر دور اورے گاؤں میں ہے۔
’’مجھے نیچے دیکھنے پر ڈر لگتا ہے۔ مجھے چکر آنے لگتا ہے۔ میں بابا [والد] کا ہاتھ زور سے پکڑ لیتا ہوں،‘‘ یش کہتا ہے۔
اورے پالہیری کے ۷۷ باشندوں (آورے گرام پنچایت کے دفتر کے اعداد و شمار کے مطابق) کو ۲۰۰۵ تک اتنے مشکل راستے پر نہیں چلنا پڑتا تھا۔ ایک چھوٹا سا پل بھاتسا ندی کی اس موج کو پار کرنے میں ان کی مدد کرتا تھا۔ لیکن اُس سال ۲۸ جولائی کو بھاری بارش نے تھانے ڈسٹرکٹ کونسل کے ذریعے ۱۹۹۸ میں بنائے گئے پُل کے کچھ حصوں کو توڑ دیا۔ اس ٹوٹے حصے میں کنارے کی صرف دو پتلی دیواریں بچی تھیں۔










