کملا جب چوتھی بار حاملہ ہوئیں اور انہوں نے اپنے بچے کو نہیں رکھنے کا فیصلہ کیا، تو ان کی پہلی منزل تھی بینور پرائمری ہیلتھ سینٹر، جو ان کی بستی سے ۳۰ کلومیٹر دور ہے۔ ابھی تک وہ صرف ہفتہ واری ہاٹ تک ہی گئی تھیں، جو ان کے گھر سے چند قدم کی دوری پر ہے، اور کہتی ہیں، ’’میں تو اس جگہ کے بارے میں جانتی بھی نہیں تھی۔ میرے شوہر نے بعد میں پتہ لگایا۔‘‘
کملا، جو ابھی ۳۰ سال کی ہوئی ہیں، اور ان کے ۳۵ سالہ شوہر روی (بدلے ہوئے نام)، دونوں ہی گونڈ آدیواسی، نے پہلے ایک مقامی ’ڈاکٹر‘ سے رابطہ کیا، جو ان کی بستی سے زیادہ دور نہیں تھا۔ ’’ایک دوست نے ہمیں اس کے بارے میں بتایا تھا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ کملا اپنے گھر کے پاس ہی واقع کھیت کے ایک ٹکڑے پر سبزیاں اُگاتی ہیں، جسے وہ ہاٹ (بازار) میں فروخت کرتی ہیں۔ جب کہ روی مقامی منڈی میں ایک مزدور ہیں، اور اپنے دو بھائیوں کے ساتھ تین ایکڑ میں گیہوں اور مکئی کی کھیتی کرتے ہےیں۔ وہ جس کلینک کا ذکر کر رہی ہیں، اسے شاہراہ سے آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایسا دعویٰ ہے کہ یہ ایک ’اسپتال‘ ہے، حالانکہ داخلی دروازہ پر ’ڈاکٹر‘ کے ساتھ کوئی نام نہیں لکھا ہے، بلکہ احاطہ کی دیواروں کو ڈھکنے والے فلیکس پینل پر اس کے نام سے پہلے وہ ٹائٹل لگا ہوا ہے۔
’ڈاکٹر‘ نے انہیں تین دنوں کے لیے پانچ گولیاں دیں، کملا بتاتی ہیں، ان سے ۵۰۰ روپے لیے، اور اگلے مریض کو بلایا۔ گولیوں کے بارے میں، اس کے ممکنہ منفی اثرات، اور سب سے اہم، کب اور کیسے وہ اسقاط کی امید کر سکتی ہیں، اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں فراہم کی گئی۔
دوا لینے کے کچھ گھنٹوں بعد، کملا کو خون بہنے لگا۔ ’’میں نے کچھ دنوں تک انتظار کیا لیکن یہ بند نہیں ہوا، اس لیے جس ڈاکٹر نے دوائیں تھیں ہم اس کے پاس واپس گئے۔ اس نے ہمیں پی ایچ سی جانے اور صفائی کروانے کے لیے کہا۔‘‘ اس کا مطلب ہے بچہ دانی کی ’صفائی‘ کروانا۔
ہلکی سردیوں کی دھوپ میں بینور پرائمری ہیلتھ سینٹر (پی ایچ سی) کے باہر ایک بینچ پر بیٹھی کملا اندر بلائے جانے کا انتظار کر رہی ہیں، جہاں پر ان کی حمل کو ختم کرنے (ایم ٹی پی) کی کارروائی کی جائے گی، جس میں تقریباً ۳۰ منٹ لگیں گے، لیکن اس سے پہلے اور بعد میں انہیں تین سے چار گھنٹے آرام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک دن پہلے خون اور پیشاب کی جانچ پوری کر لی گئی تھی۔
چھتیس گڑھ کے نارائن پور ضلع کے اس سب سے بڑے پی ایچ سی کو ۲۰۱۹ کے آخر میں جدید بنایا گیا تھا۔ اس میں زچگی کے خصوصی کمرے ہیں جس کی دیواروں پر مسکراتی ہوئی ماؤں اور صحت مند بچوں کی تصویریں بنی ہوئی ہیں، ۱۰ بستروں والا وارڈ، تین بستروں والا لیبر روم، آٹو کلیو مشین، حمل کی مدت پوری کر چکی اور بچے کو جنم دینے کا انتظار کر رہی خواتین کے لیے رہائش کی سہولت اور ساتھ ہی ایک کچن گارڈن بھی ہے۔ یہ بَستر کے آدیواسیوں کے غلبہ والے حصے میں عوامی صحت خدمات کی ایک امید افزا تصویر پیش کرتا ہے۔












