’’اگر وہ صرف جنگلی جانوروں کو بچانا چاہتے ہیں لوگوں کو نہیں، تو انہیں انتخابات کے دوران ووٹ کے لیے جانوروں کے پاس ہی جانا چاہیے۔ ہمیں نہ تو ہمارے جنگلاتی حقوق ملتے ہیں اور نہ ہی انسانوں کا درجہ،‘‘ انار سنگھ بڈولے کہتے ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات کے اہلکاروں کے ذریعے کیے گئے دعووں کا ذکر کر رہے ہیں کہ آدیواسی ماحولیات کو نقصان پہنچاتے ہیں، جس کا استعمال انہیں ان کے آبائی گھر سے بے دخل کرنے کو صحیح ٹھہرانے میں کیا جا رہا ہے۔
پچھلے ہفتہ ۳۵ سالہ بڈولے، جن کا تعلق بریلا آدیواسی برادری سے ہے، ۲۱ نومبر ۲۰۱۹ کو وَن ادھیکار ریلی میں شریک ہونے کے لیے مدھیہ پردیش کے برہان پور ضلع کے خیرکھیڑا گاؤں سے دہلی آئے تھے۔
وہ کہتے ہیں کہ محکمہ جنگلات آدیواسیوں کی فصلوں پر بار بار بُلڈوزر چلا کر ان کی مشترکہ جنگلاتی زمین کے حقوق سے منع کرتا ہے، جس کی وجہ سے انہیں زرعی مزدور کی شکل میں یومیہ مزدوری تلاش کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ اس کے بعد محکمہ جنگلات کے اہلکار اس جنگلاتی زمین کو اپنی تحویل میں لے کر اس پر شجرکاری کرتے ہیں، تاکہ محکمہ جنگلات کے لیے مالیہ کا انتظام کیا جا سکے۔ محکمہ جنگلات مبینہ طور پر برہان پور ضلع کے ۱۲ گاؤوں میں ٹائیگر ریزرو قائم کرنے کا منصوبہ بھی بنا رہا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ ان کی بریلا آدیواسی برادری نے جب مشترکہ جنگلاتی زمین پر اپنے زرعی حقوق کا دعویٰ کرنے کی کوشش کی، تو کیسے مدھیہ پردیش کے محکمہ جنگلات نے ان پر ظلم کیا۔ مثال کے طور پر، جولائی ۲۰۱۹ میں سیوال کے پڑوسی گاؤں میں بے گھر کرنے کی مہم کی مخالفت میں مظاہرہ کرنے پر جنگل کے اہلکاروں کے ذریعے پیلٹ گن سے گولی باری کی گئی۔ ’’سرکار اس زمین پر شجرکاری کرکے اسے کارپوریشنوں کو پٹّہ پر دینا چاہتی ہے، جہاں پر ہم سویابین، مکئی، جوار اور چاول جیسی غذائی اجناس اُگاتے ہیں،‘‘ وہ کہتے ہیں۔ ’’ہمیں ڈرانے اور کہیں اور چلے جانے پر مجبور کرنے کے لیے ہماری فصلوں میں آگ لگا دی جاتی ہے۔ ان زمینوں پر ہمارے دعوے ابھی بھی زیر التوا ہیں۔‘‘










