’’پہلے انہوں نے کہا کہ کارڈ پر مہر نہیں ہے۔ پھر میں نے اس پر مہر لگوانے کے لیے تمام کاغذات تیار کیے۔ لیکن انہوں نے مجھے کوئی راشن نہیں دیا ہے،‘‘ گیا بائی چوہان نے بتایا۔
۱۲ اپریل کو جب میں پونہ میونسپل کارپوریشن (پی ایم سی) میں ٹھیکہ پر کام کرنے والی گیا بائی سے ملا، تو وہ لاک ڈاؤن کے دوران اپنی فیملی کے لیے غذائی اشیاء خریدنے کو لیکر فکرمند تھیں۔ وہ اپنے پیلے راشن کارڈ – جو خط افلاس سے نیچے (بی پی ایل) زندگی بسر کرنے والے کنبوں کو جاری کیا جاتا ہے – سے پی ڈی ایس (پبلک ڈسٹری بیوشن سسٹم) کی دکان سے راشن لینے میں ناکام تھیں۔ پونہ کے کوتھ روڑ کے شاستری نگر علاقے میں واقع اپنے گھر کے پاس کی اس دکان پر، دکاندار نے ان سے کہا تھا کہ ان کا کارڈ درست نہیں ہے۔ ’’اس نے کہا کہ میرا نام راشن حاصل کرنے کے لیے فہرست میں نہیں ہے۔‘‘
۴۵ سالہ گیا بائی نے ۱۴ سال پہلے – جب فیکٹری میں کام کرنے والے ان کے شوہر، بھیکا، کام کرتے وقت ایک حادثہ کے دوران معذور ہو گئے تھے، اس کے ایک سال بعد – پی ایم سی کے ساتھ صفائی ملازم کے طور پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ وہ اب اپنی فیملی میں واحد کمانے والی رکن ہیں۔ ان کی بڑی بیٹی کی شادی ہو چکی ہے، چھوٹی بیٹی اور بیٹا دونوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے اور کما نہیں رہے ہیں۔ گیا بائی اپنی تقریباً ۸۵۰۰ روپے کی ماہانہ تنخواہ سے کسی طرح گھر چلا رہی تھیں۔ شاستری نگر چال میں ٹن کی چھت والا ان کا گھر خستہ حالت میں ہے۔ ’’میری یہ حالت ہے،‘‘ انہوں نے کہا، ’’لیکن مجھے راشن نہیں ملتا۔‘‘
ان کے لیے راشن کی دکان تک چکر لگانا صرف لاک ڈاؤن کے سبب نہیں ہے۔ ’’وہ (دکاندار) مجھے چھ سال سے راشن نہیں دے رہے ہیں،‘‘ انہوں نے بتایا۔ وہ امید کر رہی تھیں کہ کم از کم لاک ڈاؤن کے دوران وہ نرمی دکھائیں گے۔
۲۵ مارچ کو لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد دو ہفتے سے زیادہ وقت تک، گیا بائی کی کالونی میں رہنے والے کنبے مقامی پی ڈی ایس کی دکانوں سے غذائی اجناس خریدنے کے قابل نہیں تھے۔ مرکزی حکومت کے ذریعے یہ یقین دہانی کرائے جانے کے باوجود کہ قومی غذائی تحفظ قانون (۲۰۱۳) کے تحت راشن کارڈ والوں کو سبسڈی والے اناج مہیا کرائے جائیں گے، یہاں کے دکاندار انہیں واپس لوٹانے کے لیے مختلف اسباب کا حوالہ دیتے رہے۔




