حال ہی میں، مہاراشٹر کے اورنگ آباد میں مدھیہ پردیش کے ۱۶ مزدور ریل کی پٹری پر سوتے ہوئے ٹرین سے کٹ کر مر گئے۔ یہ سن کر ہمارا یہ پہلا ردِ عمل کہ وہ مزدور پٹریوں پر کیوں سو رہے تھے نہ کہ ان لوگوں سے سوال کرنا جنہوں نے ان مزدوروں کو پیدل گھر جانے کے لیے مجبور کیا، یہ سوچ ہمارے بارے میں کیا کہتی ہے؟
کتنے انگریزی اخباروں نے ٹرین کے نیچے دبے ان مزدوروں کے نام بتانے کی بھی زحمت اٹھائی؟ وہ لوگ تو بس گمنام ہی اس دنیا سے چلے گئے۔ غریبوں کے تئیں ہمارا یہی رویہ ہے۔ وہی اگر کوئی ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہوا ہوتا، تو آپ کے پاس تفصیلات دینے کے لیے ہیلپ لائن نمبر ہوتے۔ اگر ۳۰۰ لوگ بھی اس حادثہ میں مارے گئے ہوتے، تو ان کے نام اخباروں میں شائع ہوتے۔ لیکن مدھیہ پردیش کے ۱۶ غریب لوگ، جن میں سے آٹھ گونڈ آدیواسی تھے، ان کی کسے پڑی ہے؟ وہ لوگ ریل پٹریوں کے کنارے اس لیے چل رہے تھے تاکہ انہیں راستہ ڈھونڈنے میں آسانی ہو - ریلوے اسٹیشن تک کے لیے جہاں سے شاید انہیں گھر کے لیے ٹرین مل جائے۔ وہ لوگ پٹریوں پر اس لیے سو گئے کیوں کہ وہ بہت تھک گئے تھے اور شاید انہیں لگا کہ ان پٹریوں پر کوئی ٹرین نہیں چل رہی ہے۔
ہندوستان میں مزدوروں کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے، سرکاروں اور مزدوروں کے درمیان رابطہ کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں؟
ہم نے ۱۳۰ کروڑ کی آبادی والے ملک میں لوگوں کو اپنی زندگی کے تمام کاموں کو بند کرنے کے لیے صرف چار گھنٹے دیے۔ ہمارے مشہور سول سروینٹ میں سے ایک، ایم جی دیو سہایم نے کہا تھا، ’’ایک چھوٹی سی پیدل ٹکڑی کو بھی کسی بڑی کارروائی کے لیے تعینات کرنے سے پہلے چار گھنٹے سے زیادہ کا وقت دیا جاتا ہے۔‘‘ ہم مہاجر مزدوروں سے متفق ہوں یا نہ ہوں، ان کا اپنے گھر واپس جانے کا فیصلہ درست تھا۔ انہیں معلوم ہے – اور ہر گھنٹے ہم یہ ثابت کر رہے ہیں – کہ سرکاریں، فیکٹریوں کے مالک اور ہماری طرح متوسط طبقہ کے آجر کتنے بے ایمان، بے حس اور بے رحم ہو سکتے ہیں۔ اور ان کی آمدورفت کو روکنے کے لیے ہم قانون بناکر یہ ثابت کر رہے ہیں۔
آپ نے دہشت پیدا کردی۔ آپ نے پورے ملک میں پوری طرح سے انتشار پیدا کر دیا، جس نے کروڑوں لوگوں کو شاہراہ پر لاکر کھڑا کر دیا۔ ہم آسانی سے بند پڑے شادی کے ہال، اسکولوں اور کالجوں اور عوامی مراکز کو مہاجروں اور بے گھر لوگوں کے لیے پناہ گاہ میں تبدیل کر سکتے تھے۔ ہم نے بیرونِ ملک سے آنے والوں کے لیے ستارہ ہوٹلوں کو کوارنٹائن مراکز میں تبدیل کیا تھا۔
جب ہم مہاجر مزدوروں کے لیے ٹرین کا انتظام کرتے ہیں، تو ہم ان سے پورا کرایہ لیتے ہیں۔ پھر ہم اے سی ٹرینوں اور راجدھانی کا کرایہ ۴۵۰۰ روپے کردیتے ہیں۔ صورتحال کو مزید ابتر بناتے ہوئے، آپ کہتے ہیں کہ ٹکٹ صرف آن لائن ہی بُک کروایا جا سکتا ہے، یہ مان کر کہ سب کے پاس اسمارٹ فون تو ہوگا ہی۔ کچھ لوگ اس طرح سے ٹکٹ خریدتے بھی ہیں۔
لیکن کرناٹک میں، وہ لوگ ٹرین ردّ کر دیتے ہیں کیوں کہ وزیر اعلیٰ بلڈروں سے ملتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ غلام بھاگ رہے ہیں۔ آپ جو دیکھ رہے ہیں وہ راست طور پر غلاموں کی بغاوت کا ایک نظارہ ہے۔
ہم نے ہمیشہ سے غریبوں کے لیے ایک پیمانہ رکھا اور باقی لوگوں کے لیے دوسرا۔ حالانکہ آپ لوگ جب ضروری خدمات کی فہرست بناتے ہیں تب آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ڈاکٹروں کے علاوہ غریب ہی ہیں جو ضروری ہیں۔ بہت سی نرسیں مالدار نہیں ہیں۔ ان کے علاوہ، صفائی ملازمین ہیں، آشا کارکن، آنگن واڑی کارکن، بجلی کارکن، توانائی کارکن اور فیکٹریوں کے مزدور ہیں۔ اچانک آپ کو پتہ چل رہا ہے کہ اس ملک کا امیر طبقہ کتنا غیر ضروری ہے۔








