گوکل رات دن آگ سے کھیلتے ہیں۔ وہ لوہے کو گرم کر کے لال کرتے ہیں، اسے پیٹتے ہیں اور پھر شکل و صورت عطا کرتے ہیں۔ لوہے کو پیٹتے وقت اس سے اٹھتی ہوئی چنگاریوں سے ان کے کپڑوں اور جوتے میں چھوٹے بڑے سوراخ ہو جاتے ہیں؛ ان کے ہاتھوں میں جلے ہوئے کے نشان ہندوستانی اقتصادیات کی گاڑی کو آگے بڑھانے میں لگی ان کی محنت کا ثبوت ہیں۔
’’کیا ہُندا ہے [یہ کیا ہوتا ہے]؟‘‘ وہ سوال کرتے ہیں، جب ہم ان سے بجٹ کے بارے میں پوچھتے ہیں۔
جب گوکل سے بات ہو رہی ہے، مرکزی حکومت کے ذریعہ پارلیمنٹ میں سال ۲۰۲۵ کا بجٹ پیش کیے ہوئے ۴۸ گھنٹے سے بھی کم کا وقت گزرا ہے اور خبروں میں اس کی بحث جاری ہے۔ لیکن باگڑیا برادری کے خانہ بدوش لوہار، گوکل کے لیے کچھ نہیں بدلا۔
’’دیکھئے، کسی نے ہمارے لیے کچھ نہیں کیا۔ تقریباً ۸۰۰-۷۰۰ سال گزر گئے اسی طرح۔ ہماری تمام نسلیں پنجاب کی مٹی میں دفن ہیں۔ کسی نے ہمیں کچھ نہیں دیا،‘‘ تقریباً ۴۰ سال کے گوکل بتاتے ہیں۔




