’’مغربی بنگال کے لوگ ڈُلی بنانا نہیں جانتے ہیں۔‘‘
ببن مہتو دھان رکھنے کے کام میں استعمال ہونے والی اس چھ فٹ اونچی اور چار فٹ چوڑی ’’دھان دھورار ڈُلی‘‘ کے بارے میں تفصیل سے بتانا شروع کرتے ہیں۔
ہم بھی پہلی بار میں اس کی بُنائی کو سمجھ نہیں پائے تھے، پڑوسی ریاست بہار سے آیا یہ کاریگر اپنی گفتگو کے سلسلہ کو آگے بڑھاتے ہوئے کہتا ہے، ’’ڈُلی بنانا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔‘‘ اس کے لیے کاریگروں کو الگ الگ مراحل سے گزرنا ہوتا ہے: ’’بہت سے کام ہوتے ہیں – کندا سادھنا، کام سادھنا، تَلّی بیٹھانا، اسے کھڑا کرنا، بُنائی کرنا، تیری چڑھانا [بانس کو آڑا ترچھا رکھنا، اس کا گول ڈھانچہ تیار کرنا، ٹوکری کے لیے اسٹینڈ بنانا، اس کی بُنائی اور بندھنوں کو پورا کرنا وغیرہ]۔‘‘





















