جب پہلی دفعہ ۱۸ سالہ سُمِت (تبدیل شدہ نام) ہریانہ کے روہتک کے ایک سرکاری ضلع ہسپتال میں سینے کو دوبارہ ترتیب دینے کی سرجری سے متعلق جانکاری کے لیے گئے، تو انہیں بتایا گیا کہ انہیں برن یعنی جلے ہوئے مریض کے طور پر داخل ہونا پڑے گا۔
یہ ایک ایسا جھوٹ ہے، جسے لال فیتہ شاہی سے نمٹنے کے لیے ہندوستان میں ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو پیدائشی جسم سے اپنی پسند کے جسم (جس میں وہ سکون محسوس کرتے ہیں) میں منتقل ہونے کے پیچیدہ طبی اور قانونی سفر کے دوران بولنا پڑتا ہے۔ پھر بھی، یہ جھوٹ کام نہیں آیا۔
روہتک سے ۱۰۰ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع حصار کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں ’ٹاپ سرجری‘ (جیسا کہ مقامی طور پر سینے کی سرجری کو موسوم کیا جاتا ہے) کے عمل سے قبل سُمِت کو کاغذی کارروائی، لامتناہی نفسیاتی جائزے، اور طبی مشورے میں آٹھ سال لگ گئے۔ سرجری کے عمل میں ایک لاکھ روپے خرچ ہوئے (جس میں قرضے بھی شامل تھے)، اور انہیں کشیدہ خاندانی تعلقات اور سابقہ چھاتیوں کی مسلسل ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا۔
سرجری کے ڈیڑھ سال بعد بھی، ۲۶ سالہ سُمِت اپنے کندھوں کو جھکا کر چلتے ہیں۔ یہ ان کی سرجری سے قبل کے دنوں کی عادت ہے، جب ان کی چھاتیاں ان کے لیے شرم اور بے چینی کا سبب تھیں۔
ہندوستان میں سُمِت جیسے کتنے لوگ ہیں، جو پیدائش کے وقت تفویض کردہ جنس سے خود کو مختلف شناخت کرتے ہیں، اس کے کوئی تازہ اعداد و شمار موجود نہیں ہیں۔ قومی حقوق انسانی کمیشن کے تعاون سے کی گئی ایک تحقیق مطابق، ۲۰۱۷ میں ہندوستان میں ٹرانس جینڈر افراد کی تعداد ۸۸ء۴ لاکھ تھی۔
سال ۲۰۱۴ کے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی بمقابلہ یونین آف انڈیا کے مقدمہ میں سپریم کورٹ نے ایک تاریخی فیصلہ سنایا تھا۔ اس فیصلے میں ’’تیسری صنف‘‘ اور ان کی ’’ذاتی طور پر تعین کردہ‘‘ صنف کے ساتھ شناخت کرنے کے ان کے حق کو تسلیم کیا گیا، اور حکومتوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ ان کی صحت کی نگہداشت کو یقینی بنائیں۔ پانچ سال بعد، ٹرانس جینڈر افراد کے حقوق کے تحفظ کا قانون، ۲۰۱۹ نے اس کمیونٹی کو صحت کی نگہداشت کی مکمل خدمات فراہم کرنے میں حکومتوں کے کردار پر دوبارہ زور دیا، جن میں صنف کی تصدیق کرنے والی سرجری، ہارمون تھیراپی، اور دماغی صحت کی خدمات شامل ہیں۔









