اپنے سامنے الگ الگ قسم کی کٹھ پتلیاں پھیلی دیکھ کر رام چندر پُلور کہتے ہیں، ’’ہمارے لیے یہ صرف چمڑے سے تیار کردہ چیزیں نہیں ہیں۔ یہ دیوی دیوتاؤں اور غیبی روحوں کے اوتار ہیں۔‘‘ ان کے سامنے رکھی نزاکت سے بنائی گئی ان شبیہوں کا استعمال تول پاو کوت پتلی بازی میں کیا جاتا ہے، جو کیرالہ کے ملابار خطہ میں واقع جنوبی ساحلی علاقے میں تھیٹر کی ایک مقبول شکل ہے۔
روایتی طور پر یہ مجسمے چِکّی لیان جیسی مخصوص برادری کے ذریعے تیار کی جاتی تھیں۔ لیکن اس فن کی مقبولیت میں کمی آنے کی وجہ سے برادری کے لوگ اس سے دور ہوتے چلے گئے۔ اس لیے کرشنن کُٹّی پُلوَر نے دوسروں کو کٹھ پتلی بنانے کا ہنر سکھانے کا ذمہ لیا، تاکہ اس فن کو زندہ رکھا جا سکے۔ ان کے بیٹے رام چندر تو ایک قدم آگے جا کر اپنی فیملی اور پڑوس کی عورتوں کو کٹھ پتلی بنانے کا ہنر سکھا رہے ہیں۔ راج لکشمی، رجتا اور اشوتی کٹھ پتلی بنانے والی خواتین کاریگر ہیں۔ روایتی طور پر کٹھ پتلی بنانے کا یہ کام مندر کے احاطہ میں کام کرنے والے مردوں تک ہی محدود رہا ہے۔
ان کٹھ پتلیوں کو نہ صرف کاریگر، بلکہ شو میں حصہ لینے والے عقیدت مند بھی دیوی دیوتاؤں کی شبیہیں مانتے ہیں۔ انہیں بھینس اور بکری کی کھال سے تیار کیا جاتا ہے۔ کٹھ پتلی کاریگر کھال پر احتیاط سے ڈیزائن بنا کر پروسیس شروع کرتے ہیں اور نقاشی کے لیے چھینی اور سوراخ کرنے والے خاص اوزار کا استعمال کرتے ہیں۔ رام چندر کے بیٹے راجیو پُلور کے مطابق، ’’ماہر لوہاروں کی کمی کے سبب یہ اوزار حاصل کر پانا مشکل ہو گیا ہے۔‘‘


