سرو تائی اپنے گھر کے باہر ایک آم کے درخت کے نیچے بیٹھی ہیں اور اداس نظر آ رہی ہیں۔ گود میں بیٹھا ان کا چھوٹا بیٹا بے چین ہو کر غوں غوں کر رہا ہے۔ ’’ایک دو دن میں میرا حیض (پیریڈ) شروع ہو جائے گا،‘‘ وہ کہتی ہیں، ’’تب مجھے کُرما گھر جانا پڑے گا۔‘‘ حیض کے دوران وہ ۵-۴ دن اسی ’کُرما گھر‘ (جس کا لغوی معنی ہے ’حیض والی جھونپڑی‘) میں گزاریں گی۔
اس ناگزیر معمول کے بارے میں سوچ کر سرو تائی (بدلا ہوا نام) کافی پریشان ہیں۔ ’’کُرما گھر میں دم گُھٹتا ہے۔ بچوں سے دور رہنے کی وجہ سے مجھے وہاں نیند بالکل نہیں آتی،‘‘ اپنے نو مہینے کے بیٹے کو چُپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں۔ ان کی ایک بیٹی بھی ہے، کومل (بدلا ہوا نام)، جو ساڑھے تین سال کی ہے اور نرسری اسکول میں پڑھتی ہے۔ ’’اس کی پالی [حیض] بھی ایک نہ ایک دن شروع ہوگی؛ جس کے بارے میں سوچ کر مجھے ڈر لگتا ہے،‘‘ ۳۰ سالہ سرو تائی کہتی ہیں، جو اس بات کو لے کر پریشان ہیں کہ ان کی بیٹی کو بھی ماڈیا آدیواسیوں کی اس روایت پر عمل کرنا ہوگا۔
سرو تائی کے گاؤں میں کل چار ’کُرما گھر‘ ہیں۔ ان میں سے ایک جھونپڑی اُن کے گھر سے ۱۰۰ میٹر سے بھی کم فاصلہ پر ہے۔ ان تمام جھونپڑیوں کو فی الحال گاؤں کی ۲۷ بالغ لڑکیاں اور عورتیں استعمال کرتی ہیں۔ ’’میری ماں اور نانی بھی کُرما گھر جاتی تھیں۔ اور، اب میں اسے استعمال کر رہی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ کومل کو یہ پریشانی اٹھانی پڑے،‘‘ سرو تائی کہتی ہیں۔
ماڈیا آدیواسی قبیلہ کے لوگ یہ مانتے ہیں کہ حائضہ عورتیں ناپاک اور اچھوت ہوتی ہیں، اسی لیے حیض آنے پر وہ انہیں گھر سے باہر بھیج دیتے ہیں۔ ’’میں ۱۳ سال کی عمر سے کُرما گھر جا رہی ہوں،‘‘ سرو تائی کہتی ہیں۔ تب وہ اپنے میکے میں تھیں، جو مہاراشٹر کے گڑھ چرولی کے مشرقی حصہ میں ان کے حالیہ گھر سے تقریباً ۵۰ کلومیٹر دور کا ایک گاؤں ہے۔
گزشتہ ۱۸ سالوں میں سرو تائی نے اپنی زندگی کے تقریباً ۱۰۰۰ دن (ہر مہینے تقریباً پانچ دن) ایک ایسی جھونپڑی (کرما گھر) میں گزارے ہیں، جہاں نہ تو کوئی باتھ روم ہے، نہ پانی، نہ بجلی اور نہ ہی کوئی بستر یا پنکھا ہے۔ ’’اندر ہمیشہ اندھیرا رہتا ہے اور رات میں بہت ڈر لگتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اندھیرا مجھے کھا جائے گا،‘‘ وہ کہتی ہیں۔ ’’جی چاہتا ہے کہ تیزی سے اپنے گھر کی طرف بھاگوں اور اپنے بچوں کو پکڑ کر سینے سے جکڑ لوں…لیکن ایسا میں کر نہیں سکتی۔‘‘


















