اسے کفایت شعاری کی عمدہ مثال ہی کہا جائے گا۔ لیکن ۶۵ سالہ نارائن دیسائی اسے اپنے ہنر کی ’موت‘ قرار دیتے ہیں۔ دراصل، بازار کے حقائق کو دیکھتے ہوئے ان کے اس ہنر کا وجود خطرے میں پڑ گیا تھا، جس نے انہیں شہنائی کے ڈیزائن اور اس کے اجزاء میں تبدیلی کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔
شہنائی دراصل پھونک سے بجنے والا ایک آلہ موسیقی ہے، جو شادیوں، تہواروں اور مقامی تقریبات میں کافی مقبول ہے۔
دو سال پہلے تک نارائن دیسائی کے ذریعے بنائی گئی ہر ایک شہنائی کے آخری سرے کے اندر ایک پیتلی (پیتل کی) گھنٹی ہوا کرتی تھی۔ روایتی طور پر ہاتھ سے بنائی گئی شہنائی کے اندر یہ گھنٹی، جسے مراٹھی میں ’وٹی‘ کہا جاتا ہے، کو اس سریلے لکڑی کے ساز سے نکلنے والے سُر کی سطح کو بہتر بنانے کے لیے ڈالا جاتا تھا۔ ۱۹۷۰ کی دہائی میں، جب نارائن اپنے کریئر کے سب سے بہتر دور میں تھے، تب ان کے پاس درجنوں کی تعداد میں ایسی گھنٹیاں ہوا کرتی تھیں، جنہیں وہ کرناٹک کے بیلگاوی ضلع کے چکوڑی شہر سے منگوایا کرتے تھے۔
بہرحال، حالیہ برسوں میں دو وجوہات نے انہیں آدھی صدی سے بھی زیادہ عرصے سے چلی آ رہی اس تکنیک میں تبدیلی لانے کے لیے مجبور کر دیا۔ ایک تو پیتل کی قیمتیں بہت تیزی سے بڑھیں اور دوسری چیز یہ ہوئی کہ گاہک بھی ایک اچھی شہنائی کی مناسب قیمت ادا کرنے میں تھوڑی آنا کانی کرنے لگے۔
نارائن کہتے ہیں، ’’لوگوں نے مجھ پر ۴۰۰-۳۰۰ روپے میں ایک شہنائی بیچنے کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا تھا۔‘‘ وہ مزید بتاتے ہیں کہ صارفین کے اس مطالبہ کو پورا کرنا مشکل تھا، کیوں کہ پیتل کی گھنٹیاں ان دنوں ۵۰۰ روپے کی آتی ہیں۔ ایسے میں نارائن کے ہاتھ سے کئی ممکنہ آرڈر نکل گئے۔ آخرکار، انہوں نے اس کا ایک حل تلاش کر لیا۔ ’’میں نے گاؤں کے میلہ سے پلاسٹک کی تُرہی (ایک قسم کا باجا) خریدی اور اس کے آخری سرے کو کاٹ کر الگ کر دیا۔ اس حصہ میں ڈالی ہوئی گھنٹیاں شہنائی کے اندر کی گھنٹی سے مماثلت رکھتی تھی۔ اس کے بعد پلاسٹک کی بنی گھنٹیوں کو پتیل کی گھنٹیوں کی جگہ شہنائی کے اندر فٹ کر دیا۔
وہ شکایتی لہجے میں کہتے ہیں، ’’اس سے آواز کے معیار پر تو فرق پڑا، لیکن لوگوں کو بھی اب یہی چاہیے۔‘‘ کسی تجربہ کار خریدار کے آنے کی صورت میں وہ اس کو اپنے پاس رکھی وٹی نکال کر دینا نہیں بھولتے۔ پلاسٹک کی بنی متبادل گھنٹی کی قیمت کے طور پر انہیں صرف ۱۰ روپے چکانے پڑتے ہیں۔ البتہ، ان گھنٹیوں کے استعمال کے بعد انہیں اپنے فن کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کا احساس ندامت بھی ہوتا ہے۔

























