بتانے کو میرے پاس بہت سی چیزیں ہیں، لیکن میں بتاتا نہیں۔ میں ۸۹ سال کا ہوں اور بہت ساری کہانیاں ہیں، لیکن میں انہیں کبھی نہیں بتاتا۔ میں نے انہیں دل میں چھپا رکھا ہے۔ کئی رپورٹر اور صحافی آتے ہیں اور میری کہانی لکھتے ہیں۔ وہ کتابیں شائع کرتے ہیں اور دنیا کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے مجھے مشہور کر دیا ہے۔ کئی موسیقار آتے ہیں اور میری موسیقی چُرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے میں ہر کسی سے نہیں ملتا۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ مجھ سے ملے۔
مجھے سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ ملا۔ پروگرام دہلی میں تھا۔ جب مجھے ایوارڈ ملا، تو میری آنکھیں بھر آئیں۔ میرے والد نے مجھے کبھی اسکول نہیں بھیجا تھا۔ وہ سوچتے تھے کہ اس تعلیم سے مجھے معلوم نہیں نوکری ملے گی یا نہیں۔ لیکن انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ ’یہ ساز میرا دیوتا ہے۔‘ یہ واقعی ایک دیوتا ہے۔ اس نے مجھے سب کچھ دیا۔ اس نے مجھے انسانیت سکھائی۔ دنیا بھر میں لوگ میرا نام جانتے ہیں۔ میرا تارپا ایک ڈاک لفافہ پر چھپا ہے۔ اگر آپ اپنے فون پر میرے نام کا بٹن دبائیں گے، تو آپ کو میرا ویڈیو دکھائی دے گا… اور کیا چاہیے؟ کنویں کے مینڈک کو نہیں معلوم ہوتا کہ اس کے باہر کیا ہے۔ لیکن میں اس کنویں سے باہر نکلا… میں نے دنیا دیکھی۔
آج کل نوجوان تارپا کی دھنوں پر نہیں ناچتے۔ انہیں ڈی جے مل گیا ہے۔ بجانے دو۔ لیکن مجھے ایک بات بتاؤ، جب ہم کھیت سے اپنی فصل کاٹتے ہیں، جب ہم گاؤں دیوی کو نئے چاول کا پرساد چڑھاتے ہیں، جب ہم اس کا نام لیتے ہیں اور اس سے پرارتھنا کرتے ہیں، تو کیا ہم ڈی جے بجائیں گے؟ ان لمحات میں وہاں صرف تارپا ہوتا ہے، اور کچھ نہیں۔
دستاویز بندی میں مدد کے لیے ’آروہن‘ کی مادھوری مُکنے کا تہ دل سے شکریہ۔
انٹرویو، ٹرانس کرپشن اور انگریزی ترجمہ: میدھا کالے
فوٹو اور ویڈیو: سدھیتا سوناونے
یہ اسٹوری پاری کے ’خطرے سے دوچار زبانوں کے پروجیکٹ‘ کا حصہ ہے جس کا مقصد ملک کی معدوم ہو رہی زبانوں کی دستاویز بندی کرنا ہے۔
وارلی ایک ہند آریائی زبان ہے جو ہندوستان میں گجرات، دمن اور دیپ، دادرا اور نگر حویلی، مہاراشٹر، کرناٹک اور گوا کے وارلی یا ورلی آدیواسی بولتے ہیں۔ یونیسکو کے ذریعہ شائع زبانوں کے ایٹلس میں ’وارلی‘ کو ہندوستان کی ممکنہ طور پر معدوم ہونے والی زبان کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
ہمارا مقصد مہاراشٹر میں بولی جانے والی وارلی زبان کی دستاویز بندی کرنا ہے۔
مترجم: محمد قمر تبریز